احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
اکثر واعظین عورتوں کے مجمع میں خوش الحانی سے اشعار پڑھتے ہیں یہ بالکل ہی مصلحت دین کے خلاف ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سفر میں ایک غلام کو عورتوں کے سامنے اشعار پڑھنے سے روک دیا اور فرمایا تھا کہ ’’رویدک یا انجشہ لاتکسرالقواریر‘‘(بخاری شریف)تو جب اس زمانہ میں کہ سب پر تقویٰ غالب تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی تو آج کس کو اجازت ہوسکتی ہے ،بالخصوص جب کہ خود عورتیں یا لڑکے ہی پڑھنے والے ہوں ۔ (دعوات عبدیت ص۱۲۶ج۹)عورتوں کی طرح امردوں کو پردہ کا حکم کیو ں نہیں ایک سوال کیاگیا کہ عورتوں کے پردہ میں رکھنے کی علت تویہی ہے ،کہ ان کے خروج (باہرنکلنے) سے فتنہ کا اندیشہ ہے اور یہ علت جیسی عورتوں میں پائی جاتی ہے امارد(بے ڈاڑھی کے خوبصورت لڑکوں میں جن کی طرف کشش ہوتی ہے ان) میں بھی پائی جاتی ہے تو اشتراک علت سے حکم بھی مشترک ہونا چاہئے ،اور امردوں کے لئے بھی خروج (باہر نکلنا )جائز نہیں ہونا چاہئے ۔ جواب میں فرمایا کہ شریعت کا قاعدہ کلیہ ہے کہ جس امر میں مفاسد شامل ہوجائیں اگر وہ غیرضروری ہوتا ہے تو اس امر ہی کو روک دیا جاتا ہے اور اگر وہ ضروری ہوتا ہے تو اس کی ممانعت نہیں کی جاتی، بلکہ مفاسد کے اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے توعورتوں کا باہر نکلنا چونکہ غیر ضروری تھا ،اس لئے مفاسد کی وجہ سے اسی کو روک دیاگیا ،اور امر د(بے ریش لڑکے) چونکہ چندروز میں رجال (مرد) ہونے والے ہیں اور ان کے لئے ایسے کمالات جن کا مردوں کو حاصل ہونا ضروری ہے ان