احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
نہیں جب تک مرد اس کو محفوظ نہ رکھے ، اسم فاعل کے صیغہ سے یہ بات حاصل نہ ہوتی اس لئے اسم مفعول کا صیغہ لائے ۔ (العاقلات الغافلات ص۳۵۰)عورت کو اپنے چہرہ کا پردہ کرنا بھی ضروری ہے ستر اور پردہ کا فرق حضرات فقہاء نے عورت کے چہرہ اور ہاتھ کی ہتھیلیوں کو ستر سے مستثنیٰ فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں یہ چیزیں کھلی رہیں تو نماز ہوجائے گی اس میں خلل نہ آئیگا اس میں فقہاء نے قدموں کا بھی یہی حکم بتلایا ہے ،اس کے علاوہ عورت کا سارابدن ستر میں داخل ہے اس میں سے کوئی عضو نماز میں کھلا رہا تو نماز نہ ہوگی یہ مسئلہ تو ستر پوشی کا ہے ۔ او رغیر محرموں سے عورت کا پردہ یہ الگ مسئلہ ہے اس کا مدارفتنہ کے اندیشہ پر ہے ،اور ظاہر ہے کہ عورت کا چہرہ اس کے بدن کا ممتاز حصہ ہے اس کے غیر محرموں کے سامنے کھولنے میں بڑا فتنہ ہے ،اسی لئے حضرات فقہاء نے غیر محرم مردوں کے سامے عورت کو چہرہ کھولنے کی اجازت نہیں دی ۔ (مجالس حکیم الامت ص۱۲۶)