احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
(۳)اور دوسرے اور تیسرے درجہ کا پردہ (یعنی برقعہ کے ساتھ باہر نکلنا یاگھروں کے اندر رہنا) چونکہ عارض (یعنی فتنہ) کی وجہ سے واجب ہے اس لئے ان کے واجب ہونے کا مدار اس عارض (فتنہ) ہی پر ہے جہاں وہ عارض (یعنی فتنہ کا خطرہ) موجود ہوگا وہاں یہ درجے واجب ہوں گے اور جہاں عارض موجود نہ ہوگا وہاں یہ درجے واجب نہ ہوں گے اور وہ عارض فتنہ کا اندیشہ ہے جس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے استشرفہاالشیطان الحدیث نیز حق تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی اس کی دلیل ہے فیطمع الذی فی قلبہٖ مرض (کہ جس کے دل میں روگ ہے وہ طمع کرنے لگے گا)فتنہ کس عورت میں ہے اور کس میں نہیں رہا یہ کہ فتنہ کا اندیشہ کہا ں ہے اور کہاں نہیں اس کی تعیین ہماری رائے پر نہیں رکھی گئی ،بلکہ قرآن میں اس کا فیصلہ خود ہی فرمادیاگیا ہے ،چنانچہ ارشاد ہے وَالْقَوَاعِدُمِنَ النِّسَائِ الَّلاَّ تِیْ لاَیَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِیْنَۃِ وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌلَّہُنَّ ۔ (ترجمہ) اور بڑی بوڑھی عورتیں جن کو نکاح کی کچھ امید نہ رہی ہو ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتاردیں (جن سے چہرہ وغیرہ چھپایاجاتا ہے) بشرطیکہ زینت کے مواقع ظاہر نہ کریں اور اس سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے اورزیادہ بہتر ہے ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جو بوڑھی عورتیں نکاح کے قابل نہیں رہیں ان کو زینت ظاہر کرنے کی تواجازت نہیں جس سے مراد تمام بدن ہے البتہ چہرہ اور