احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
نامحرم کا جھوٹا کھانے کا حکم اور بعض فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ عورت کو اجنبی مرد کا جھوٹا کھانا جائز نہیں (اسی طرح مرد کو اجنبی عورت کا جھوٹا کھانا جائز نہیں )کیونکہ اس کھانے سے بھی رغبت ہوتی ہے ،میں نے اس کا یہ انتظام کررکھا ہے کہ جوکھانا بچاہوا گھر میں جاتا ہے اگر معلوم نہ ہوکہ کس کا کھایاہوا ہے تب تو کھالو ،ورنہ مت کھاؤ۔ اور بعض فقہاء نے یہاں تک لکھا ہے کہ بھتیجی کو چچاسے علیحدہ رہنا چاہئے گووہ خودمحرم ہے مگر اپنے لڑکوں کے لئے پسند کرنے کے واسطے اس پر نظر کرے گا۔ (حسن العزیز ملحضاً ص۱۶ج۱)دل ودماغ کا پردہ حدیث شریف میں ہے : اللسان یزنی وزناہ النطق والقلب یتمنی ویشتہی۔ یعنی زبان زنا کرتی ہے اور زبان کا زنا محرم سے بات کرنا ہے اور قلب تمنا کرتا ہے ،خواہش کرتا ہے اور قلب کا زنا سوچنا ہے ۔ (دعوات عبدیت ص۸۵ج۵) اسی وجہ سے فقہاء نے ارشادفرمایا ہے کہ اجنبی عورت (یاحسین لڑکے ) کے تذکرہ اور تصور سے نفس کو لذت دینا جائز نہیں ،اور اجنبی عورت کے خیال وتصورات سے لذت لیناحرام ہے حتیٰ کہ اگر اپنی بیوی سے صحبت کرے اوراجنبی عورت کا تصور کرے وہ بھی حرام ہے ۔ (ثبات الستور ص۴۱)