احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
،اخبارات کے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ اہل یورپ کو عورتوں نے کیساپریشان کررکھا ہے، (اس لئے عورتوں کوآزادی نہیں دینا چاہئے) کیونکہ اول تو آزادی کی روک تھام عقل سے ہوتی ہے ۔اور عورتوں میں عقل نہیں ،ان کا ناقص العقل ہونا مشاہدہے، دوسرے طبعی قاعدہ ہے کہ جو قوت ایک زمانہ تک بندرہی ہو جب اس کو آزادی ملتی ہے تو اک دم سے ابل پڑتی ہے۔(اس کا جوانجام ہوگا ظاہر ہے ) اس قاعدہ کی بناء پر ہندوستان کی عورتوں کو بلکہ مسلمان عورتوں کو ہرگزآزادی دینا مناسب نہیں کیونکہ اب تک تووہ قید میں رہیں اگر ان کو آزادی مل گئی تو یقینا ایک دم سے ابل پڑیں گی۔ غرض اسلام میں عورتوں کو مردوں کے ساتھ مساوات تونہیں ہے مگر حقوق کی رعایت ہے ۔ (التبلیغ وعظ ا لحدود والقیود ص۱۸۸) عورت میں عقل کم ہوتی ہے اور جس میں عقل کم ہو اس سے ہر کام میں غلطی کرنے کا احتمال ہے لہٰذا اسکے واسطے سلامتی اسی میں ہے کہ وہ زیادہ عقل والے کاتابع ہو،حق تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے کہ عورتوں کو آزادنہیں بنایا ہے ورنہ ان کا کوئی کام بھی درست نہ ہوتا، دین ودنیا سب کا موں میں ان سے غلطیاں ہواکرتیں ۔ (التبلیغ وعظ کساء النساء ص۹۸ج۷)بے حیائی وبے باکی وبے غیرتی آج کل بے پردگی کی زہریلی ہوا چل رہی ہے ،بڑی ہی خطرناک چیز کی طرف مخلوق جاری ہے، اس کے نتائج نہایت ہی خراب نکلیں گے بے حیائی کا بازار تو پہلے ہی سے کھلا ہوا تھا اب بیباکی بھی شروع ہوگئی ہے اور غضب یہ ہے کہ قرآن