احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
بدنگاہی کا مرض بہت چھپا ہوا ہوتا ہے افسوس ہے کہ لوگ تو اس (بدنگاہی) کو ایسا خفیف سمجھتے ہی کہ گویا حلال ہی ہے حالانکہ معصیت کوحلال سمجھنا قریب بہ کفر ہے ، کسی عورت کو دیکھ لیا، کسی لڑکے کو گھورلیا اس کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے کسی اچھے مکان کو دیکھ لیا ،یاکسی پھول کو دیکھ لیا ،اور یہ گناہ وہ ہے کہ اس سے بوڑھے بھی بچے ہوئے نہیں ہیں بدکاری سے تو محفوظ ہیں کیونکہ اس کے لئے بڑے اہتمام کرنے پڑتے ہیں ،اول توجس سے ایسا فعل کرے وہ بھی راضی ہو ،اور روپیہ بھی پاس ہو، اور حیاوشرم بھی مانع نہ ہو ،غرض اس کے لئے بہت شرائط ہیں ،اسی طرح بہت سے موانع ہیں ، چنانچہ کہیں یہ امر مانع ہوتا ہے کہ اگر کسی کو اطلاع ہوگئی تو کیا ہوگا ،کسی کو خیال ہوتا ہے کہ کوئی بیمار ی نہ لگ جائے ،کسی کے پاس روپیہ نہیں ہوتا ،کسی کو اس کی وضع مانع ہے ، چونکہ موانع زیادہ ہیں اس لئے شائستہ آدمی خصوصاً جو دیندار سمجھے جاتے ہیں اس میں بہت کم مبتلاہوتے ہیں ،بخلاف آنکھوں کے گناہ کے کہ اس میں سامان کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ نہ اس میں ضرورت روپیہ کی اور نہ اس میں بدنامی کیونکہ اس کی خبر تو اللہ ہی کو ہے کہ کیسی نیت ہے ،کسی کو گھورلیا اور مولوی صاحب مولوی صاحب رہتے ہیں اور قاری صاحب قاری صاحب رہتے ہیں ،نہ اس فعل سے ان کی مولویت میں فرق آتا ہے اور نہ قاری صاحب کے قاری ہونے میں کوئی دھبہ لگتا ہے ،اور( دوسرے) گناہوں کی خبر تواوروں کو بھی ہوجاتی ہے مگر اس کی اطلاع کسی کونہیں ہوتی، معصیت کرتے ہیں اور نیک نام رہتے ہیں لڑکوں کو گھورتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کو بچوں سے بڑی محبت ہے ، جب آنکھوں کے گناہ میں اطلاع نہیں ہوتی