احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
سبب کبرسنی(بڑھاپے کی وجہ سے) مطلقاً فتنہ کا احتمال اور خواہش باقی نہیں وہاں چہرہ اور ہتھیلی کا کھولنا جائز ہے ،اور یہی مطلب ہے ان کے ستر نہ ہونے کا ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ مشتہات عورتوں کا اجنبی کے سامنے آنا ازروئے قرآن وحدیث وفقہ ناجائز ہے ،اور ضرورت میں برقعہ اوڑھ کر نکلے۔(آیات واحادیث وروایات فقہیہ اصل کتاب میں موجود ہیں )۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۸۱ ج۴) اور چہرہ کھولنے یانہ کھولنے کی سب تفصیل عورت کے فعل میں ہے باقی جومردکا فعل ہے یعنی نظرکرنا اس کا جداحکم ہے ، یعنی چہرہ کھولنے کا جواز نظر کرنے کے جواز کو مستلزم نہیں ،پس جس صورت میں عورت کو کسی عضوکا کھولنا جائز ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مرد کو اس کا دیکھنا بھی جائز ہو بلکہ وہ محل محرم یااحتمال شہوت کی صورت میں غض بصر (نگاہ نیچی رکھنے) کا مامور رہے گا چنانچہ خودآیت میں اس کی دلیل موجود ہے قُلْ لِلْمُؤمِنِیْنَ یَغُضُّوْا الخ۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۸۴ج۴)