احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
میں معززین (عزت والے) بھی جانے لگے ، یہ غلط ہے بلکہ وہ معززین جیل خانہ میں جب ہی پہنچے جب کہ عزت (والے کام) کو چھوڑ دیا، اس وقت ان کو معززکہنا صرف خاندانی نسبت کی وجہ سے ہے ورنہ عزت تو رخصت ہوچکی کیونکہ عزت توعزت والے کام کانام ہے جب جو اکھیلا یا شراب پی تو افعال بگڑچکے پھر عزت کہاں ایسے ہی پردہ داروں میں جوزنا ہوجاتا ہے ان کو پردہ دار کہنا باعتبار ماکان (یعنی پہلے کے اعتبار سے) ہوگا یاباعتبار رسم کے ہوگا ورنہ پردہ ٹوٹنے کے بعد ہی تو اس فعل کی نوبت آئی ، غرض یہ ان لوگوں کی غلطی ہے جو پردہ کے خلاف ہیں اور یہ خیال غلط ہے کہ زنا سے حفاظت سدذرائع کے بغیر ہوسکتی ہے ۔ جب شریعت اس کو ایسا مشکل سمجھتی ہے کہ اس کے لئے ذرائع اور تدابیر کی ضرورت سمجھتی ہے تو وہ واقع میں مشکل ہی ہے ،شریعت کی نظر ہم سے کہیں غامض ہے ،اس کے سامنے ہماری تحقیق کیا چیز ہے اور پھر وہ کچھ تحقیق بھی تو ہو صرف تقلید اور خود رائی کا نام توتحقیق نہیں ہوسکتا ۔ (الکاف ملحقہ مفاسد گناہ ص۱۷۵)عورتوں کو پردہ میں رکھنے کی ایک اور شرعی دلیل اَلْمُحْصَنٰتُ ، اَلغَافِلاَتُ، اَلْمُؤمِنَاتُ،دوصفت میں تو اسم فاعل کا صیغہ لائے ہیں یعنی اَلْغَافِلاَتُ ،اَلْمُؤمِنَاتُ ، مگر المحصنٰت ، اسم مفعول کاصیغہ لایاگیا ہے اور اس طرح لانے سے ہمیں ایک سبق دیاگیا ہے جس کی ضرورت چودھویں صدی میں آکر (زیادہ) واقع ہوئی ،وہ یہ کہ اس میں مردوں کو پردہ کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ المحصنٰت کے معنی ہیں پارسارکھی ہوئی عورتیں ، یعنی مرد ان کو پارسارکھیں ،پارسارکھنا ان کے ذمہ (واجب) ہے معلوم ہوا کہ اکیلی عورت کافی