احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
تو ان کے بارے میں سترکا کیاحکم ہے ؟آیا ضرورت کی وجہ سے یہ امور ان کے لئے درست ہوسکتے ہیں یانہیں ،اور مالک مکان کو کس طورسے احتیاط کرنا چاہئے ۔؟ (الجواب) سرکھولنے کی توکوئی ضرورت نہیں ،البتہ ذراعین (کلائیاں ) میں امام ابویوسفؒ اجازت دیتے ہیں کمافی کتاب الکراہیۃ من الہدایۃ اور مواضع غیرمباحہ کو (یعنی جن اعضاء کا چھپانا ضروری ہے)اگر عورت نہ ڈھانکے تو مرد کو غض بصر(نگاہ نیچی رکھنا ) واجب ہے ،اور نظر فجاء ۃ (یعنی اچانک نگاہ پڑجانا) معصیت نہیں ۔ (امدادالفتاویٰ ص۲۰۰ج۴)گھر میں کام کرنے والی نوکرانیوں سے پردہ (سوال) اگر ہر جوان عورت کے لئے نامحرموں سے چہرہ چھپا نا ضروری اور واجب ہے تو گھر کی خادمائیں (نوکرانیاں ) اس حکم سے مستثنیٰ ہیں یانہیں ؟ اگر مستثنیٰ ہیں تو شرعی دلیل کیا ہے ۔اور اگر نہیں ہیں تو گھر کے مرد مالک وغیرہ) جوان کے چہروں کی طرف بلا تکلف دیکھتے اور ان سے گفتگو بھی کرتے ہیں اس کاشرعی حکم کیا ہے ۔؟ (الجواب) تمام بدن کو چھپا کر صرف چہرہ کھول کر نامحرموں کے سامنے (نوکرانی کا) آنا یہ ادنیٰ درجہ کا پردہ ہے جو ضرورت اور مجبوری کے وقت کافی ہے ،باقی (گھرکے مردوں کو اس حالت میں خادمہ کے چہرہ کی طرف ) دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ،اس لئے اس کی اجازت نہ ہوگی حدیث میں ہے لعن اللہ الناظر(یعنی خداتعالیٰ نے دیکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے یعنی جو بلاضرورت نامحرم کو دیکھے) اور بات چیت اگر ضرورت سے ہے تو ضرورت کی حدتک جائز ہے