احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
بدنگاہی سے بہت کم لوگ بچے ہیں ہم کو اپنی حالت دیکھنا چاہئے کہ ہمارے اندراس معصیت سے بچنے کا کتنا اہتمام ہے میں دیکھتا ہوں شاید ہزار میں ایک اس سے بچا ہوا ہو ،ورنہ ابتلائے عام ہے اور اس کو نہایت درجہ خفیف سمجھتے ہیں ۔ جو جوان ہیں ان کو تو اس کا احساس ہوتا ہے اور جن کی قوت شہویہ ضعیف ہوگئی ہے ان کواحساس بھی ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کو تو شہوت ہی نہیں اس لئے کچھ حرج نہیں ہے سوان کو مرض کا پتہ بھی نہیں لگتا ۔ (دعوات عبدیت ص۷۷ج۵) یہ مرض تاک جھانک کا اکثر پرہیز گاروں میں بھی ہے ،ا ن کو دھوکہ اس سے ہوجاتا ہے کہ وہ بعض اوقات اپنی طبائع میں اکثر شہوت کی خلش نہیں پاتے ،اس سے سمجھتے ہیں کہ ہماری نظر شہوانی نہیں ،لیکن بہت جلد ظاہر ہوجاتی ہے اس لئے ابتداء ہی سے احتیاط واجب ہے ۔ (دعوات عبدیت الاتعاظ بالغیر ص۱۱۹ج۹) ایک کوتاہی طلبہ میں یہ ہے کہ امارد(حسین لڑکوں ) کی طرف نظرکرنے اور ان کے ساتھ اختلاط کرنے سے نہیں بچتے ،حالانکہ یہ تقویٰ کے لئے سمِّ قاتل ہے، آخرت کا مواخذہ تو شدید ہے ہی، اس سے دنیا میں اہل علم کی سخت بدنامی ہوتی ہے،علم دین پڑھنے والوں کو اس باب میں سخت احتیاط کرنا چاہئے ۔ (التبلیغ ص۱۳۶ج۲)