احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
فصل تنہائی میں اپنی ذات سے پردہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اورروز قیامت پر یقین رکھتاہووہ حمام(غسل خانہ) میں بے لنگی باندھے نہ جائے ۔ (روایت کیا اس کو ترمذی نے) معاویہ بن حیدہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کس موقع پر بدن چھپائیں ،اور کس موقع پر ویسے ہی چھوڑدیں ؟ آپ نے فرمایا سب سے اپنے ستر کو محفوظ رکھو سوائے بیوی یا باندی کے انہوں نے سوال کیا کبھی آدمی تنہائی میں ہوتا ہے آپ نے فرمایا تو پھر اللہ تعالیٰ سے حیا کرنا مناسب ہے ،روایت کیا اس کو ترمذی نے۔ فائدہ: حدیث مذکورہ سے یہ معلوم ہوا کہ تنہائی میں بھی بلا ضرورت برہنہ ہونا (یعنی بالکل ننگا ہونا) جائز نہیں ہے ،اللہ تعالیٰ سے اور فرشتوں سے شرم کرنا چاہئے ۔ (فروع الایمان ص۶۸)تصویر کی طرف دیکھنا فرمایااگر تصویر قصداً دل خوش کرنے کو دیکھے تو حرام ہے اور اگر بلاقصدنظر پڑجائے توکچھ حرج نہیں ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر صنعت (کاریگری) کے لحاظ سے دیکھے تو کیاحکم ہے ؟ فرمایا تصویر بنانے والے کی صنعت (کاریگری) کیا چیز ہے صانع