احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
(سوال ۲۴۰) میں نے اپنے گھر میں عرصہ سے تجوید سکھائی ہے اللہ کا شکر ہے باقاعدہ پڑھنے لگی ہیں ،جن لوگوں کو اس امر کی اطلاع ہے وہ کبھی آکر کہتے ہیں کہ ہم سننا چاہتے ہیں ،اور ہیں معتمد لوگ تو پردہ کے ساتھ سنوادینا جائز ہے یانہیں ،اگر چہ ایسا کیا نہیں اب جیسا حکم ہوگا ویسا کروں گا۔ (الجواب) ہر گز (جائز ) نہیں لانہ اسماع صوت المرأۃ بلاضرورۃ شرعیۃ (کیونکہ عورت کی آواز کو بغیر شرعی ضرورت کے سنانا ہے اسلئے جائز نہیں ) (امدادالفتاویٰ ص۲۰۰ج۴) امرداور عورت کی آواز اگربلاقصد بھی کان میں پڑے تو کانو ں کو بند کرلے ۔ (انفاس عیسیٰ ص۳۵۹) حضرت مولانا گنگوہی ؒ نے حضرت حاجی امداداللہ صاحب سے روایت کی تھی کہ دہلی میں ایک شخص تھا اس نے ایک بار (گانا) گایا تھا ،اس کی وجہ سے تمام درودیوارمیں ایک زلزلہ سا آگیا تھا ۔ اسی طرح سے بعض اوقات (کسی کی آواز سننے سے) نفس میں مذموم ہیجان (براجوش ) پیدا ہوجاتا ہے اسی وجہ سے اس کی ممانعت فرمائی گئی ہے ۔ (الافاضات الیومیہ ص۳۰۰ج۸) اگر قرآن شریف سن کر نفسانی کیفیت پیدا ہو تو محمود نہ ہوگی (بلکہ فتنہ کی وجہ سے مذموم اور ممنوع ہوگی) مثلاً کسی امرد سے قرآن شریف سنا اور اس کی آواز یاصوت سے قلب میں کیفیت پیداہوئی تو یہاں اسباب کو نہ دیکھیں گے آثار کو دیکھیں گے،اور ظاہر ہے کہ وہ کیفیت یقینا نفسانی ہوگی (اس لئے ناجائز ہونے کا حکم لگایاجائے گا) (ملفوظات اشرفیہ ص۳۷۶)