احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
جناب یہ نتیجہ ہے اس آزادی(بے پردگی) اور جدید تعلیم کا جن عورتوں کی یہ حالت ہو، بتلائیے ،کیا وہ خانگی امور کو انجام دے سکیں گی ،اگر شوہر بیمارہو تھکا ہو وہ کیا پاؤں دبائیں گی ،یا بچوں کی خدمت کریں گی ،ہاں بس اس کام کی ہیں کہ اولاد جنا کریں ،بلکہ اگر کوئی مشین بچہ جننے کی ایجاد ہوتو یہ اس سے بھی آزاد ہو جائیں ، اور یہ کہہ دیں گی کہ کیاہمارا پیٹ فٹن ہے جو ہم بچہ کا بوجھ لادے لادے پھریں ،اب بھی ان سے جس قدر ہوسکتا ہے بچوں سے قطع تعلق رکھتی ہیں ،بچہ پیدا ہوااور کسی عورت کے حوالہ کردیا۔ الحاصل عورتوں کی آزادی اور بے پردگی میں وہ مصلحتیں جن کے لئے وہ پیداکی گئی ہیں ،حاصل نہیں ہوسکتے ہیں ،وہ پردہ ہی میں حاصل ہوسکتی ہیں اور پردہ کامفہوم عام ہے یعنی وہ بھی پردہ ہی ہے جو مالداروں میں ہے ،اور وہ بھی پردہ ہے جوغریبوں کی عورتوں میں ہے ،بے پردگی وہ ہے جو آزاد عورتوں میں ہے ۔ (التہذیب ملحقہ مفاسد گناہ ص۴۱۰)کافرعورتوں سے علاج کرانے میں چند ضروری شرعی ہدایات کافرعورتوں سے علاج کرانے میں کوئی مضائقہ نہیں ،مگر اس میں چند باتوں کا خیال رکھیں ۔ (۱)ان سے علاج معالجہ کے سوااور کوئی بات نہ کریں ۔ (۲)ضرورت کے سوازیادہ میل جول نہ بڑھائیں ،ان سے بہناپانہ کریں ، آج کل تو غضب یہ ہے کہ جس گھر میں ایک دفعہ میم صاحب کا قدم آجاتا ہے پھر وہ روز کے روز اسی میں کھڑی نظر آتی ہے، اگر وہ خودبھی نہ آئی تو گھر والیاں بلاتی ہیں ،