احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
عورت کے رونے کی آواز سے بہت احتیاط کرنا چاہئے فرمایا عورت کی آواز سے حتی الامکان بچنا چاہئے خصوصاً اس کے رونے کی آواز سے ،میرے ایک رشتہ دارقتل کردئے گئے تھے میں ان کے کفن دفن میں منتظم تھا بہت سخت حادثہ تھا مجھ کو رونا کم آتا ہے مگر اس وقت ایک دو آنسوآئے ،میں جب دفن سے فارغ ہوکر مکان پر آیا دہلیز میں بیٹھا تھا کہ عورتوں کے رونے کی آوازسنی تو بس اسی وقت اختلاج قلب (دل کی دھڑکن) کا دورہ شروع ہوگیا کہ جان بچنا مشکل ہوگیا وطن پہنچ کر بیمارہوگیا ۔ (کلمۃ الحق ص۱۰۲)عورت کی آواز اور چہرہ کا پردہ ضروری ہونے کی شرعی دلیل وَلَایَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ یعنی عورتوں کو حکم ہے کہ اپنے پیروں کوزمین پر اس طرح نہ ماریں کہ اس سے زیور وغیرہ کی آواز نکلے اور غیر محرموں تک پہنچے۔اور ظاہر ہے کہ زیور عورت کا کوئی جزنہیں بلکہ ایک منفصل (علیحدہ) چیز ہے اور اس کی آواز سے اتنا فتنہ پیداہونے کا خطرہ بھی نہیں جتنا چہرہ کھولنے (یاآواز) سے ہوتا ہے توجب ایک منفصل (علیحدہ) چیز کی آواز سے پیدا ہونے والے فتنہ کو اس نص قرآنی (آیت) میں روکاگیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عورت کی زینت کے ممتاز حصہ یعنی چہرہ کھولنے (اور آواز ) سننے کی اجازت دیدی جائے ۔ (مجالس حکیم الامت ص۱۲۶) (الغرض) اس آیت سے یہ بھی مفہوم ہوسکتا ہے کہ جب زیور کی آواز کے پوشیدہ رکھنے کا ایسا اہتمام ہے تو خودصاحب زیور(یعنی عورت) کی آواز جو کہ اکثر فتنہ اور میلان کا ذریعہ ہوجاتی ہے اس کا اخفاء (پوشیدہ رکھنا) کیوں قابل اہتمام نہ