احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
باب۴ شریعت میں پردہ مقررکرنے کی وجہ اور حکمت انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوت کا سرچشمہ ہے (یعنی خواہش نفس) جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہوسکتا، ایسی ہے کہ اس کے (نفسانی) جذبات موقع محل پاکر جوش مارنے سے باز نہیں رہ سکتے یااگر باز بھی رہ سکے تاہم سخت خطرہ میں پڑجاتے ہیں ۔ اگر ہم بھوکے کتے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر امید رکھیں کہ اس کتے کے دل میں ان روٹیوں کا خیال تک نہ آئے تو ہم اپنے اس خیال میں غلطی پر ہیں ۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قوتوں (یعنی نفسانی خواہشات) کو پوشیدہ کاروائیوں کا بھی موقع نہ ملے،اور ایسی کوئی تقریب (یاایسا کوئی موقع) پیش نہ آئے جس سے یہ خطرات جنبش کرسکیں ۔ خداتعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو دیکھ تولیا کریں اور ان کی تمام زینتوں پر نظر بھی ڈال لیں ، اور ان کے تمام نازانداز ناچنا وغیرہ بھی مشاہدہ کرلیں لیکن پاک نظر سے (جیسا کہ لوگ کہہ دیتے ہیں خدا نے یہ تعلیم نہیں دی) اور نہ ہم کو یہ تعلیم دی ہے کہ ہم ان بیگانہ (اجنبی) عورتوں کا گانابجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے۔ بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کوہر گزنہ دیکھیں نہ پاک نظرسے اور نہ