احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
باب۱۳ پردہ کس عمر سے ہونا مناسب ہے ڈھاکہ کے نواب صاحب نے حضرت والا سے دریافت کیا کہ پردہ کس عمر سے ہونا چاہے ،فرمایا غیروں سے تو سات برس سے بھی کم اور نامحرم رشتہ داروں سے سات برس کی عمر سے۔ بسااوقات سیانی (لڑکی) کے سامنے آنے سے اتنے فتنے نہیں ہوتے جتنے ناسمجھ کے سامنے آنے سے ہوتے ہیں کیونکہ سیانی خودحیاکرتی ہے ،اور مردوں کو موقع کم دیتی ہے ،نیز مرد سمجھتا ہے کہ یہ سیانی سمجھدار ہے اس کے سامنے دلی خیالات عملاً ظاہر کروں گا توسمجھ جائے گی ،اور ناسمجھ کے سامنے یہ مانع موجود نہیں ہوتا۔ بلکہ میری رائے یہ ہے کہ جب تک لڑکی پردہ میں نہ بیٹھ جائے ایک چھلہ بھی نہ پہنایاجائے اور کپڑے بھی سفید یا معمولی چھینٹ وغیرہ کے پہنائے جائیں اس میں دین کی بھی مصلحتیں ہیں اور دنیا کی بھی ۔ (ملفوظات اشرفیہ ص۱۷۳،۱۷۴)بیاہی لڑکی کی بھی حفاظت بہت ضروری ہے لوگوں کا عام خیال یہ ہے کہ کنواری کی حفاظت زیادہ ضروری ہے ،بیاہی ہوئی کی نگہبانی کی ضرورت نہیں اور یہ خیال ہندوؤں سے ماخوذہے اس کا سبب یہ ہے کہ اگر کنواری سے کوئی بات ہوجاتی ہے تواس میں بدنامی اور رسوائی ہوتی ہے اور بیاہی سے کوئی بات سرزد ہوجائے تو بدنامی نہیں ہوتی کیونکہ اس کے توشوہر ہے اس کی طرف نسبت کی جائے گی ،مگر یہ خیال محض جہالت پر مبنی ہے ،اگر عقل سے کام لیاجائے تومعلوم ہوگا کہ