احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
کرنا حرام کہا ہے ،پھر بھلا چہرہ اور گلاکھولنا مطلقاً کیونکر جائز ہوسکتا ہے جو کہ حسن وجمال کامرکز ہے ۔ (الفیض الحسن ص۱۷۰)ایک ہی گھر میں نامحرم رشتہ دار کے ساتھ رہنا ہو تو پردہ کس طرح کیاجائے عورتوں کو نامحرم رشتہ داروں (مثلاً دیورجیٹھ وغیرہ) سے گہرا پردہ کرنا چاہئے ،ہاں جس گھر میں بہت سے آدمی رہتے ہوں جن میں بعض نامحرم ہوں اور بعضے محرم،اور گھرتنگ ہو اور پردہ کرنے کی حالت میں گزرمشکل ہو ،ایسی حالت میں نامحرم رشتہ داروں سے گہرا پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ،اور نہ ہی ایک گھر میں اس طرح نباہ ہوسکتا ہے ۔ ایسی صورت میں نامحرموں کے سامنے بقدر ضرورت چہرہ کا کھولنا جائز مگر باقی تمام بدن سر سے پیر تک لپٹا (چھپا) ہواہونا چاہئے ،کفوں کے چاک سے ہاتھ نہ جھلکیں ، گریبان کھلا ہوانہ رہے ،بٹن اچھی طرح لگے ہوئے ہوں تاکہ گلااور سینہ نہ جھلکے، دوپٹہ سے تمام سرلپٹا ہوا ہو کہ ایک بال بھی باہر نہ رہے ،اس طرح بدن کو چھپا کر ان کے سامنے منہ کھول کر گھر کاکام کاج کرسکتی ہیں ۔ اور یہی حکم کا فرعورتوں کا ہے کہ ان کے سامنے صرف چہرہ اور ہاتھ اور پیر کھولنا جائز ہے باقی تمام بدن کا ان سے چھپا ناواجب ہے کہ سرکا بال بھی ان کے سامنے نہ کھلے ،عورتیں بھنگنوں اور چماریوں (غیرمسلم عورتوں ) سے بالکل احتیاط نہیں کرتیں حالانکہ ان سے بھی چہرہ اور دونوں ہتھیلی اور پیروں کے علاوہ باقی بدن کا شرعاً ویساہی پرد ہ ہے جیسے نامحرم مردوں سے ہے ۔ (الکمال فی الدین ص۱۰۹)