احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
چہرہ کا پردہ ضروری ہونے کی ایک اور دلیل اِحْرَامُ الرَّجُلِ فِیْ رَاسِہٖ وَاِحْرَامُ الْمَرْأَۃِ فِیْ وَجْہِہَا(یعنی مرد کا احرام اس کے سر میں اور عورت کا احرام اس کے چہرہ میں ہے مطلب یہ ہے کہ) حج میں مردوں کو سرڈھانکنا حرام ہے اور عورتوں کو چہرہ پر کپڑا ڈالنا ناجائز ہے ،مگراس سے یہ استنباط نہیں ہوسکتا کہ پردہ عورتوں کو نہ کرنا چاہئے بلکہ اس سے تو اور پردہ کے تاکد (ضروری ہونے )پر استدلال ہوتا ہے کہ عورت کو ساری عمرچہرہ ڈھانکنا ضروری ہے صرف حج میں اس کو منہ کھولنا چاہئے ،اگر یہ حج کی خصوصیت نہ ہوتی تو اِحْرَامُ الْمَرْاَۃِ فِیْ وَجْہِہَا کے معنی کچھ نہیں ہوں گے۔اگر عورت کو ساری عمر چہرہ کھولنا جائز ہوتا تو اس کے کیا معنی کہ عورت کا احرام چہرہ میں ہے ،اسی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عورت کے لئے چہرہ (کاپردہ) بہت قابل اہتمام ہے ۔ احرام میں حکم دیاگیا ہے کہ مرد سرکھلا رکھیں اور عورتیں چہرہ کھلارکھیں مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ کپڑا چہرہ سے نہ لگے یہ نہیں کہ اجنبی مردوں کو چہرہ دکھلاتی پھریں ،پس (احرام میں بھی) عورتیں اپنے چہرہ پر اس طرح کپڑا لٹکائیں کہ چہرہ سے علیحدہ رہے ۔ (الحج المبرور ،التبلیغ ج۳)عورت کے لئے چہرہ کھولنے اور مردوں کو دیکھنے کا شرعی حکم آیات واحادیث وروایات فقہیہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے لئے اصلی حکم احتجاب واستتاربجمیع اعضائہا وار کا نہا(یعنی پورے جسم اور تمام اعضاء کا پردہ اور خود پردہ میں رہنا شرعاً) ثابت ہے ،البتہ جہاں ضرورت شدیدہ ہوں یا بہ