احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
مجنوں (پاگل) بنایا ہے ان کو آپ خودقید کردیتے ہیں (ہاتھ پیر تک باندھ دیتے ہیں ) اس سے معلوم ہوا کہ نقص ِعقل موجب قید ہے (یعنی عقل کم ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کو قید میں رکھا جائے )جب یہ بات مسلم ہوگئی تو عورتوں کے لئے بھی اسی وجہ سے قید (پردہ) کی ضرورت ہے ،کیونکہ ان کا ناقص العقل (کم عقل والا ہونا) مسلّم (طے شدہ) ہے ہاں یہ فرق ضرورہونا چاہئے کہ جیسا نقص (کمی) ہو ویساہی قید ہو مجنون کامل کے لئے قید بھی کامل ہوتی ہے کہ ایک کوٹھری میں بندکردیتے ہیں ،ہاتھ پیر باندھ دیتے ہیں اور مجنون ناقص(یعنی عورت) کے لئے قید ناقص ہونا چاہئے کہ اس کو بلااجازت گھر سے نکلنے کا اختیار نہ دیاجائے ۔(ملفوظات اشرفیہ ص۲۷)عورت کے لئے پردہ عقل وفطرت کا مقتضٰی ہے بے پردگی کا ثمرہ فرمایا پردہ ایسی چیز ہے کہ اگر شریعت نہ بھی تجویز کرتی تب بھی غیرت کا مقتضی اور فطری امر ہے کہ عورتوں کو پردہ میں رکھا جائے ۔ ایک شخص نے شبہ پیش کیا کہ پردہ کا ذکر کونسی آیت یاحدیث میں آیا ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ آپ جو سودوسوکے نوٹ سب سے اندروالی جیب میں رکھتے ہیں اور بڑی حفاظت کرتے ہیں یہ کونسی حدیث میں آیا ہے کیاعورت کی قدر آپ کے نزدیک نوٹ کے برابربھی نہیں ؟ افسوس ہرروز اس بے پردگی کی بدولت نئے نئے شرمناک واقعات سننے میں آتے ہیں مگر پھر بھی ہوش نہیں آتا ،ابھی ایک اخبار میں دیکھا ہے کہ حیدرآباد