احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
تک راضی رکھئے گا (اللہ تعالیٰ جب راضی ہوگا وہ خود دوسروں کو بھی راضی کردے گا اور آپ کی محبت لوگوں کے دل میں پیداکردے گا ) (وعظ طریق القلندر،اصلاح المسلمین ص۴۵۶)جس کوناجائز فعل سے اطمینان ہو اس کو بھی پردہ کرنا ضروری ہے اگرکوئی شخص یہ کہے کہ (عورتوں کی طرف دیکھنے بات کرنے کی) ممانعت اس لئے ہے کہ کہیں ناجائز فعل نہ ہوجائے اور مجھ کو اطمینان ہے کہ مجھ سے کوئی ناجائز فعل نہ ہوگا ،توپس ایسی حالت میں کلام کرنا درست ہونا چاہئے ،تویہ بھی ہرگز جائز نہیں ہوسکتا ،اوریہ خیال بالکل غلط ہے ،کیونکہ اس میں رفتہ رفتہ عشق ومحبت بڑھ جائے گا پھر اپنی طبیعت قابو میں نہ رہے گی ،اور بوسہ وکنار وغیرہ بھی سرزد ہوجائے گا جو کہ حرام ہے ۔ لہٰذا ہم لوگوں کو چاہئے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہے اس کے پاس ہرگزنہ پھٹکیں ورنہ خطرہ سے خالی نہیں ہے ۔ (مقالات حکمت ملحقہ دعوات عبدیت ص۱۳۸ج۲۰)پاکدامن اور پاکیزہ دل والوں سے پردہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود( پردہ کا اہتمام فرمائیں اور دوسری عورتوں سے) اپنے سے پردہ کرائیں توکونسا پیر اور کونسا رشتہ دار ہے جس سے بے حجابی جائز ہوگی ،خواہ کوئی خالوہو یا پھوپھا ،دادا لگتا ہے یاچچا اگر محرم نہ ہو ،وہ بھی اجنبی ہے ، بڑا