احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
وغیرہ کی فرمائش پوری کی جائے اور کوئی حرام وناجائز تعلق میں گرفتار ہے اور سب سے بڑھ کر فتنہ جو تمام فتنوں کی جڑ ہے وہ بے پردگی ہے لیکن شریعت نے ام المفاسد(سب سے بڑے فتنہ) کے بند کرنے کا جو طریقہ مقررکیا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو یہ فتنہ بند ہوسکتا ہے اور وہ طریقہ پردہ ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ صاحب پردہ میں بھی فتنہ ہوجاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بھی پردہ میں کوتاہی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔یعنی پردہ میں کچھ بے پردگی ہوتی ہے تب فتنہ ہوتا ہے اور اگر پردہ میں ذرا بھی بے پردگی نہ ہو تو فتنہ کی کوئی وجہ نہیں ۔ (الفیض الحسن ص۱۶۹) جہاں پر دہ نہیں ہے ذراان کے واقعات دیکھ لیجئے وہ واقعات دیکھ کر آپ خود کہیں گے کہ پردہ ہونا چاہئے ،اِس وقت علماء کو وحشیانہ خیال والا کہتے ہیں مگر آئندہ چل کر معلوم ہوجائے گا۔ (العاقلات الغافلات ملحقہ حقوق الزوجین ص۳۵۰)پردہ عورت کا فطری وطبعی تقاضا ہے پردہ مسلمان عورتوں کی طبیعت کے خلاف نہیں کیونکہ مسلمان عورت کے لئے حیاء(شرم) طبعی امر ہے لہٰذا پردہ طبیعت کے موافق ہو،اور اس کو قید کہنا غلطی ہے ،ان کی حیا(شرم) کا تقاضا ہی یہی ہے کہ پردہ میں مستور(چھپی) رہیں بلکہ اگر ان کو باہر پھرنے پر مجبور کیاجائے تو یہ خلاف طبیعت ہوگا اور اس کو قید کہنا چاہئے ۔ پردہ کامنشاء (سبب) حیا ہے اور حیاعورت کے لئے طبعی امر ہے اور امر طبعی کے خلاف کسی کو مجبور کرنا باعث اذیت (وتکلیف) ہے اور اذیت پہنچانا دلجوئی کے خلاف ہے، پس عورتوں کو پردہ میں رکھناظلم نہیں بلکہ حقیقت میں دلجوئی ہے ، اگر کوئی عورت بجائے دلجوئی کے (پردہ کو) ظلم سمجھے تو وہ عورت نہیں اس سے اس وقت کلام