احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
کنواری کی حفاظت کی اتنی ضرورت نہیں جتنی بیاہی ہوئی کیلئے ضروری ہے ۔ اوراس میں راز یہ ہے کہ قدرتی طورپر کنواری میں شرم وحجاب بہت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ توایک طبعی مانع موجود ہے اوربیاہی ہوئی کی طبیعت کھل جاتی ہے اس کے ساتھ طبعی مانع موجود نہیں ہوتا اس لئے اس کی عفت وعصمت محفوظ رکھنے کے لئے بہت بڑی نگہبانی کی ضرورت ہے ،نیز کنواری کو طبعی مانع کے علاوہ رسوائی کا بھی خوف زیادہ ہوتا ہے ،اور بیاہی کو اتنا خوف نہیں ہوتا کیونکہ کنواری میں توکوئی آڑنہیں اور اس میں شوہر کی آڑ ہے ،اس کافعل اس کی طرف منسوب ہوسکتا ہے ،اس لئے بیاہی ہوئی کی طبیعت برے کاموں پر کنواری سے زیادہ مائل ہوسکتی ہے اس لئے اس کی حفاظت کنواری سے زیادہ ہونا چاہئے ۔ (عضل الجاہلیۃ ص۳۶۸)پردہ کی حقیقت وصورت اور پردہ کی روح آج کل لوگ اس کی کوشش میں بھی ہیں کہ مروجہ پردہ اٹھادیا جائے اور عورتیں کھلے مہارآزادی کے ساتھ فٹن پر بیٹھ کر گھوماکریں اور اس کو بے پردگی نہیں سمجھتے حالانکہ یہ سخت بے حیائی ہے ،باقی میں اس کوبے پردگی نہ کہوں گا جو غریبوں کی عورتیں منہ چھپا کر گھونگٹ نکال کر میلے کچیلے کپڑوں میں شرم وحیا کے ساتھ اپنے کسی کام کے لئے باہر نکلتی ہیں اس لئے کہ پردہ کی جوروح ہے وہ ان کو حاصل ہے ۔ یہاں سے ان متکبرین کا جواب بھی نکل آیا جو علماء سے غریبوں کے متعلق بطور حقارت کے پوچھا کرتے ہیں کہ کیوں صاحب ان جولاہوں تیلیوں کی عورتیں پردہ نہیں کرتیں باہر پھر تی ہیں اور ہماری عورتیں پردہ کرتی ہیں کیا ان کے پیچھے ہماری نماز ہوجاتی ہے ۔؟