احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
میں بھی نظر کے مرض میں اکثر مبتلا ہیں ،حالانکہ حدیث سے معلوم ہوچکا ہے کہ زنا آنکھ سے بھی ہوتا ہے پس امردوں کو بھی بنظر شہوت دیکھنا حرام ہے اس میں بہت کم لوگ احتیاط کرتے ہیں حالانکہ نظر (بدنگاہی) مقدمہ ہے فعل کا اور مقدمۃ الحرام حرامقاعدہ فقہیہ ہے یعنی حرام کے مقدمات بھی حرام ہوتے ہیں (لہٰذا بدنگاہی بھی حرام ہے )اس لئے نگاہ کی حفاظت بہت ضروری ہے ۔ (دین ودنیا ص۲۷۲)بدنگاہی کاوبال اور اس کا عذاب اہل کشف نے لکھا ہے کہ بدنگاہی سے آنکھوں میں ایک ایسی ظلمت ہوجاتی ہے کہ جس کو تھوڑی سی بصیرت ہووہ پہچان لے گا ، کہ اس شخص کی نگاہ پاک نہیں ہے ۔ اگردوشخص ایسے لئے جائیں کہ عمرمیں حسن وجمال میں اور ہر امر میں وہ برابر ہوں ،فرق ان میں صرف اس قدر ہو کہ ایک فاجر ہو دوسرا متقی ہو ، جب چاہے دیکھ لو فاجر کی آنکھ میں ایک قسم کی ظلمت اور بے رونقی ہوگی ،لیکن اہل کشف خصوصیت سے کسی کو کہتے نہیں بلکہ عیب پوشی کرتے ہیں ۔ (دعوات عبدیت ص۷۸ج۵) میں نے خوا ب میں ایک مرتبہ دجال کو دیکھا کہ اس کے ساتھ عورتیں اور باجے بہت کثرت سے ہیں اسی واسطے میں اس سے بہت خوف کرتاہوں جو لوگ حسن پر ست ہیں اور (ان میں )بدنظری کا مادہ ہے وہ اس کے (دجال کے) ساتھ ہوں گے ۔ (مزید الجمید ص۶۸) یہ بہت پرانا مرض ہے اور سب سے اول لوط علیہ السلام کی قوم میں یہ مرض