احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
پسند کرتے ہیں ،اور یہ بات بھی مسلم ہے لکل ساقطۃ لاقطۃ یعنی ہر گری پڑی چیز کاکوئی نہ کوئی اٹھانے والا ضرور ہوتا ہے ۔ (ثبات الستور مع تسہیل ص۲۶)عورتوں کے لئے بازار میں جانے کا شرعی حکم (سوال )(۲۳۳) مسلمان عورتوں کو بازار میں جانا شریعت میں حلال ہے یاحرام یامکروہ ؟ شرعی دلیل کے ساتھ بیان کریں ۔ (الجواب) قال اللہ تعالیٰ ولاتبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولیٰ الآیۃ وقال اللہ تعالیٰ غیرمتبرجات بزینۃ وقال اللہ تعالیٰ ولایبدین زینتہن اس سے معلوم ہوا کہ زینت کے ساتھ عورت کو بازار میں یامجمع میں نکلنا یاکسی غیر محرم کے سامنے آنا قطعاً حرام ہے ،البتہ اگر کوئی ضروری حاجت ہو اور ہیئت رثہ وثیاب بذلہ یعنی میلے کچیلے کپڑوں میں (بناؤ سنگار کئے بغیر) پردہ کرکے نکلے توجائز ہے ۔لقولہ تعالیٰ یدنین علیہن من جلابیبہن ولقولہ تعالیٰ الاماظہر منہا۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۹۷ج۴) عورت کو ضرورت کے وقت منہ ڈھانک کر خواہ تنہایاکسی محرم یاثقہ(معتبر) عورت کے ساتھ محارم (رشتہ دار) سے ملنے کے واسطے اور دیگرحوائج ضروریہ(ضروریات) کے واسطے گھر سے نکلنا جائز ہے ،مگر سفر کرنا بغیر محرم کے جائز نہیں ۔ (امدادالفتاویٰ ۱۹۸ج۴)عورتوں کے لئے زیارت ِقبور کاحکم