احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
حقیقی(یعنی اللہ تعالیٰ) کی بعض مصنوعات کو بھی دیکھنا حرام ہے جیسے عورتوں ،امردوں کو صنعت کی نظرسے دیکھنے لگے، فقہاء نے اس کو خوب سمجھا ہے لکھتے ہیں کہ اگر شراب کی طرف فرحت کے لئے نظر کرے تو حرام ہے کیونکہ قاعدہ ہے کہ اچھی چیز کو دیکھ کر رغبت ہوتی ہے ۔ (ملحوظات جدید ملفوظات ص۵۱)ناجائز تصویر اور فوٹوسے پردہ تصویروں کے ذریعہ لذت حاصل کرنے کی قباحت (وممانعت) میں کسی کو کلام نہیں ،اگر چہ نیک لوگوں کی تصویرہوں ،اور اگر چہ اس تصویر کی طرف کوئی اور مکروہ (نازیبا حرکت) بھی منسوب نہ ہو ،محض تفریح ولذت ہی کے لئے ہو(تب بھی ناجائز ہے )کیونکہ محرمات شرعیہ سے نظر (یعنی نگاہ) کے ذریعہ بھی لذت حاصل کرنا حرام ہے ۔ فی الدرالمختار کتاب الاشربۃ وحرم الانتفاع بالخمر ولو لسقی دواب اولطین اونظر للتلہی: شریعت اسلامیہ میں جاندارکی تصویر بنانا مطلقاً گناہ ہے خواہ کسی کی تصویر ہو ،احادیث صحیحہ کی روسے تصویر بنارکھنا سب حرام ہے اور اس کو زائل کرنا ،مٹانا،اور ختم کرنا واجب ہے ،اس لئے کہ یہ معاملات سخت گناہ کے ہیں ۔ (بوادرالنوادر)فقہاء کی احتیاط اور چنداہم مسائل فقہاء حکماء امت میں انہوں نے جوان عورتوں کو سلام کرنے تک کو منع لکھا ہے ، فقہاء نے یہا ں تک احتیاط کی ہے کہ اجنبی عورت کی چادر کو دیکھنا حرام ہے، (امدادالفتاویٰ ص۳۸۶ج۴،ص۲۴۳ج۴،ص۲۵۴ ملتقطً)