احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
ہے کیونکہ مسلمان عورت کے لئے حیاامر طبعی ہے (یعنی فطرت اور طبیعت کا تقاضہ ہے)لہٰذا پردہ( حبس) طبیعت کے موافق ہوااور اس کو قید کہنا غلط ہے ،ان کی حیاکا مقتضاء یہی ہے کہ (عورتیں ) پردہ میں مستور (چھپی) رہیں بلکہ اگر ان کو باہر پھرنے پر مجبور کیاجائے تو یہ طبیعت کے خلاف ہوگا اور اس کو قید کہنا چاہئے ۔ (وعظ کساء النساء معارف حکیم الامت ص۵۲۲)پردہ میں غلو اور عورت پر ظلم مردوں کی ذمہ داری ایسا پردہ نہ ہونا چاہئے جو قید کا مصداق ہویعنی پردہ توضرورہومگر پردہ میں اس کی دلجوئی کاسامان بھی مہیاہو،یہ نہیں کہ میاں صاحب نماز کو جائیں تو باہر سے تالالگاکرجائیں کسی سے اس کو ملنے نہ دیں نہ اس کی دسراہت (دلجوئی) کاسامان کریں (یہ بیشک پردہ میں غلو اور عورتوں پر ظلم وزیادتی ہے)مردوں کو لازم ہے کہ پردہ میں عورتوں کی دلچسپی کا ایسا سامان (انتظام)کریں کہ ان کو باہر نکلنے کی ہوس ہی نہ ہو۔ سمجھنے کی بات ہے کہ اگر مردوں کو کسی وقت وحشت ہوتی ہے تو باہر جاکرہم جنسوں میں دل بہلاسکتے ہیں ،بیچاری عورتیں پردہ میں اکیلی کس طرح دل بہلائیں ، تم کو چاہئے کہ یاتوخود اس کے پاس بیٹھو یا تم کو فرصت نہیں ہے تو اس کی کسی ہم جنس عورت کواس کے پاس رکھو،اگر کسی وقت کسی بات پروہ شکایت بھی کرے تومعمولی بات پر برامت مانو تمہارے سوااس کا کون ہے جس سے وہ شکایت کرنے جائے اس کی شکایت کونازومحبت پر محمول کرو۔ (معارف حکیم الامت ص۵۲۳ کساء النساء التبلیغ ج۷)