احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
پردہ کے تینوں درجوں میں ضرورت کے مواقع کا استثناء اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ پردہ کے تینوں درجوں میں یہ بات مشترک ہے کہ ضرورت کے مواقع ان سے مستثنیٰ ہیں جس کی دلیل بخاری کی یہ حدیث ہے : عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت خرجت سودۃ بعد ماضرب الحجاب لحا جتہا الی قولہا فقالت یارسول اللہ انی خرجت لبعض حاجتی فقال لی عمر کذا وکذا (یعنی اماواللہ ماتخفین علینا) قالت فاوحی اللہ الیہ فقال انہ قد اذن لکن ان تخرجن لحاجتکن ۔ (تفسیر سورۃ احزاب) (ترجمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد حضر ت سودہ رضی اللہ عنہا قضاء حاجت کے لئے نکلیں (پھر کچھ قصہ اس کا بیان کرکے فرمایا کہ)حضرت سودہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں اپنی ایک حاجت کے لئے باہر نکلی تھی تو مجھے حضرت عمر نے ایسا ایسا کہا(یعنی یہ کہا کہ اے سودہ خدا کی قسم تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں ،مطلب یہ تھا کہ تم کو باہر نہ نکلنا چاہئے( کیونکہ تم چادر برقعہ پہن کر بھی کسی سے چھپ نہیں سکتیں ۔) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد وحی نازل ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ضرورت کے واسطے نکلنے کی تم کو اجازت دیدی ہے۔ (تفسیر سورہ احزاب)(ثبات الستورمع تسہیل ص۱۶)