احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
شیطان آخرتک نہیں پہونچاسکتا، شیطان کو ہر معصیت میں اختیار صرف بلا نے اور ترغیب دینے ہی کا ہے ،بڑی چیزوہ تقاضہ ہے جو خود آپ کے اندر موجود ہے ، یعنی تقاضائے نفس ،توشیطان سے بڑانفس ہوا، نفس کو روکئے یہاں تک دومقدمے ہوئے ایک یہ کہ معصیت کا اصلی سبب تقاضائے نفس ہے اور شیطان صرف محرک ہے وہ کوئی فعل جبراً ہم سے نہیں کراسکتا کہ ہم ارادہ بھی نہ کریں اور کام ہوجائے۔ اور دوسرا مقدمہ یہ ہوا کہ تقاضائے نفس کے بعد ہمارا ارادہ معصیت کا سبب ہوتا ہے تو جب معصیت نفس کے تقاضے سے ہوتی ہے تو کوئی تدبیر معصیت سے بچنے کی اس کے سوا نہیں ہوسکتی کہ تقاضائے نفس کو ضبط کیاجائے اور یہ مشکل ہے ۔ اس کے لئے سہل تدبیریہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ تقاضائے نفس کیوں ہوتا ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ معاصی میں نفس کو لذت آتی ہے وہ لذت گناہ کرنے والے کے پیش نظر ہوتی ہے اور واقع میں اس گناہ پر ایک عقوبت بھی مرتب ہونے والی ہے وہ پیش نظر نہیں ہوتی اور وہ خدا کی ناراضی اور عذاب جہنم ہے ،اس کو دوسرے الفاظ سے اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ گناہ کرنے والے کو ارادہ گناہ کے وقت صرف ایک مخلوق پیش نظر ہوتی ہے یعنی لذت اور خدا پیش نظر نہیں ہوتا ۔اگر خدا بھی پیش نظر ہوجائے تو گناہ کا تقاضا کبھی نہ ہو۔ (مفاسد گناہ ص۱۷۶) اور صبرعن الشہوات بہت مشکل ہے ،کیونکہ شہوت رانی میں قضاء شہوت (شہوت پورا ہوجانے) کے بعد کچھ کوفت نہیں ہوتی اگر کسی کو روحانی کوفت ہو توممکن ہے لیکن ایسے بہت کم ہیں ،عام حالت یہی ہے کہ شہوت رانی کے بعد اس کا مزہ پڑجاتا ہے پہلے سے زیادہ آگ بھڑک جاتی ہے ،گوتھوڑی دیر کے لئے سکون ہوجاتا ہے ۔ (دین ودنیا ص۲۶۷)