احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
اس کی بہت سختی سے بندش کرنا چاہئے ۔ (۳)اگر وہ مذہبی باتیں شروع کرے توفوراً روک دینا چاہئے ،یاکم ازکم سننا نہ چاہئے ،اور اگر وہ کسی بات کا جواب مانگیں تو صاف کہہ دو کہ شہر میں علماء موجود ہیں تم ان سے جاکر کہو ،وہ تم کو ہربات کاجواب دیں گے۔ (۴)اور ایک خاص بات تو ایسی ہے جس کی طرف اکثر عورتیں توکیا خاص مرد بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ،وہ یہ کہ جسم کے جن حصوں کامحرم مرد (جیسے بھائی وغیرہ) سے چھپا نا فرض ہے ،کافرعورتوں سے بھی ان کا چھپانا فرض ہے ،مثلاً سرکا کھولنا یاگلاکھولنا محرموں کے سامنے جائز نہیں ، ان مواضع کا کافر عورت کے سامنے کھولنا بھی بلاضرورت حرا م ہے ۔البتہ ان مواضع (جسم کے حصہ) کو علاج کی غرض سے کھولنا پڑے تو جائز ہے ،لیکن بلاضرورت ہر گزنہ کھولنا چاہئے ،اس میں بکثرت مستورات (عورتیں ) مبتلاہیں وہ یہ سمجھتی ہیں کہ عورتوں سے کیاپردہ،حالانکہ شریعت میں کافر عورتوں کاحکم مثل اجنبی مرد کے ہے ان کے سامنے بدن کھولنا ایسا ہی ہے جیسا کہ غیرمردوں کے سامنے بدن کھولنا ،پس ان سے تمام بدن کو احتیاط سے چھپاؤ، صرف منہ اور قدم اور گٹے تک ہاتھ کھولنا ان کے سامنے جائز ہے باقی تمام بدن کا چھپانافرض ہے ،اس کی طرف عورتوں کوبالکل توجہ نہیں ۔ (التبلیغ وعظ کساء النساء ص۱۶۷ج۷)