احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
ہوگا ،اور اگر زنا واقع نہ ہوتو پھر آنکھوں کا بھی زنا نہ ہوگا ،لہٰذا صرف دیکھ لینا زنا نہیں ورنہ والفرج یصدقہ‘ کے کیا معنی ہوں گے؟ حضرت نے فرمایا عموماً لوگ اسی کو تفسیر سمجھتے ہیں مگر اس سے تویہ لازم آتا ہے کہ مطلق دیکھنا زنا نہ ہوحالانکہ دیکھنا بھی آنکھوں کا زنا ہے ۔خواہ فعلی (یعنی عملی طورپر) زنا واقع نہ ہو۔ اس حدیث کی اچھی تفسیر وہ ہے جو مولانا محمدیعقوب صاحب سے منقول ہے جو یادرکھنے کے قابل ہے وہ یہ کہ ہر نظر (یعنی ہر دیکھنا ) زنا نہیں بلکہ جو نظر فرج کے علاقہ (یعنی شرم گاہ کے تعلق سے ہو) یعنی جس نظر کا باعث شہوت ہو (یعنی شہوت کے ساتھ جو دیکھنا ہو ) وہ زنا ہے ۔ورنہ یوں توماں بہن پر بھی نظر کرتے ہیں ،مگر وہ چونکہ شہوت سے نہیں ہوتی اس لئے زنا نہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ آنکھوں کے زنا کا تحقق اس وقت ہوگا جب کہ فرج (شرم گاہ)اس کی تصدیق کرے ،اور اگر فرج اس کی تصدیق نہ کرے توآنکھوں کے زنا کا تحقق نہ ہوگا ،یہاں پرفرج اس کی تصدیق نہ کرے توآنکھوں کے زنا کا تحقق نہ ہوگا ،یہاں پر فرج کے معنی شہوت کے ہیں اس تفسیر پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا ،پس ہر وہ نظر زنا ہوگی جس کا باعث شہوت ہو،اب اگر کسی نے شہوت سے نگاہ کی تو(عملی طورپر) زنا تحقق نہ ہوگا مگر آنکھوں کا زنا صادق ہوگا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے گا کہ آنکھوں کے زنا کو شہوت ثابت کرتی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ آنکھوں کے زنا کا تحقق اس وقت ہوگا جب کہ دیکھنا شہوت سے ہو ،یوں توطبیب ،ڈاکٹر وغیرہ بھی دیکھتے ہیں ،باقی یہ دوسری بات ہے کہ دیکھا تو تھا کسی اور ضررت سے مگر شہوت کا تحقق ہوگیا۔ (حسن العزیز ص۲۱۲،۴۵۳ج۳)