احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
دیواروں سے بولیں ؟ اب ہم ان کے یہاں جانا ہی بند کردیں گے کیاعزیز وں (رشتہ داروں ) کے تعلقات اور آپس کامیل جول بے پردگی ہی پر موقوف ہے ؟اور اگر (بالفرض یہ پردہ تعلقات قائم رکھنے پر رکاوٹ اور) مانع ہے تو نعوذباللہ اللہ میاں پر اعترا ض ہے کہ ایسے قریبی رشتہ داروں کو بھی نامحرم قراردیدیا ،مگر بعض (دیندارعورتیں ) ایسی ہمت والیا ں بھی ہیں چاہے کوئی ہو وہ کسی نامحرم کے سامنے نہیں آتیں ،چاہے کوئی برا مانے یا بھلا مانے ،اور اکثر جگہ تو پردہ کی ایسی کمی ہے کہ محرمیت نہیں (یعنی ایسے رشتہ دارنہیں جن سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہوتا ہے بلکہ) کچھ نہیں ،دوردور کے رشتہ داروں کو بے تکلف گھر میں بلالیتی ہیں اور بے مہابا(بے جھجھک بے پردہ ہوکر) آجاتی ہیں یہ بالکل ناجائز اور سخت گناہ ہے ،مردوں کو چاہئے کہ وہ انہیں تنبیہ کریں اور سب نامحرموں سے پردہ کرائیں ،اگر کسی کو ناگوار ہو تو بلا سے کچھ پرواہ مت کرو، ہر گز ڈھیلاپن نہ برتو، بلکہ مردوں کو چاہئے کہ اگر کوئی نامحرم رشتہ دارعورت (جن سے رشتہ جائز ہوسکتا ہو) ان سے پردہ نہ کرے توخود اس سے چھپا کریں اگرکوئی براماناتا ہے ماناکرے ،کچھ پرواہ نہیں کرنی چاہئے ،برامان کر کوئی کرے گا کیا، اچھا تو ہے سب لوگ چھوڑدیں کوئی اپنا نہ رہے اسی طرح مخلوق سے تعلق گھٹے ،جب کوئی اپنا نہ رہے گا اور سب توقع ختم ہوجائے گی تب تو سوچے گا کہ بس اب تواللہ میاں ہی سے تعلق پیداکرنا چاہئے،اب سمجھے گا کہ( اعزہ اقرباء یاردوست یہ سب حجاب تھے) اب کوئی حجاب نہ رہا،اب خدا کے بنو جتنے تعلقات کم ہو ں اتنا ہی اچھا ہے ،اور بھائی یہ تو سوچوکہ کسے کسے راضی کروگے ،راضی توایک ہی ہوتا ہے ،کئی توراضی ہوانہیں کرتے ۔ توحضرت یہ کیجئے کہ صرف ایک اللہ کو راضی رکھئے بہت سے آدمیوں کو کہاں