بارے میں چوں کہ کسی کو پورا پتہ نہ چلا،اس لیے ان کے متعلق مختلف اقوال ہیں(۲)۔ الموسوعۃ الفقہیۃ میں صائبین کی تعریف میں دس اقوال مذکور ہیں۔(۳)
’’صابئین ‘‘ کی تعریف میں مختلف اقوال ہیں، اس لیے اُن کے دین ومذہب کی حقیقت میں بھی فقہاء کرام کے مابین اختلاف ہے:
امام ابو حنیفہ وامام احمد بن حنبل رحمہما اللہ اُن کو اہلِ کتاب مانتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ وہ ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں عبادت نہیں، جیسے مسلمان کعبۃ اللہ کی تعظیم کرتے ہیں پرستش نہیں۔ اور صاحبین (امام ابو یوسف وامام محمد) اور علامہ قرطبی مالکی رحمہم اللہ اُن کو اہلِ کتاب نہیں مانتے، اس لیے کہ وہ ستارہ پرست ہیں جو بت پرستوں ہی کی طرح ایک قوم ہے۔(۴)
[ب]: آیتِ کریمہ : {ان الذین اٰمنوا والذین ہادوا والصّٰبئون والنصٰرٰی من اٰمن باللّٰہ والیوم الاٰخر} ۔ [المائدۃ :۶۹]کی تفسیرمیں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’آیت میں حق تعالیٰ شانہٗ نے چار قوموں کو مخاطب کرکے ایمان اور عملِ صالح کی ترغیب اور اس پر فلاحِ آخرت کا وعدہ فرمایا، ان میں سے پہلے - الذین اٰمنوا- یعنی مسلمان ہیں، دوسرے -الذین ہادوا- یعنی یہود ، تیسرے صابئون، اور چوتھے نصاریٰ، ان میں تین قومیں ؛ مسلمان، یہود ، نصاریٰ معروف ومشہور ، اور دنیا کے اکثر خطوں میں موجود ہیں، صابئون، صا بئہ کے نام سے آج کل کوئی قوم معروف نہیں، اسی لیے اس کی تعیین میں علماء وائمہ کے اقوال مختلف ہیں۔ امام تفسیر ابن کثیر رحمہ اللہ نے بحوالہ قتادہ ایک یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ صابئون وہ لوگ ہیں جو فرشتوں کی عبادت