احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
ہتھیلیاں کھولنے کی اجازت ہے جیسا کہ دوسری آیت ولایبدین زینتہن میں ہے پس بوڑھی عورتیں اگر ان زائد کپڑوں کو اجنبی کے سامنے اتاردیں جن سے منہ چھپا یاجاتا ہے (جیسے برقع چادر) تو اس میں گناہ نہیں ،لیکن اگر یہ بڑی بوڑھی اس سے بھی احتیاط رکھیں تو مستحب ان کے لئے بھی یہی ہے ۔ ا س آیت نے صاف بتلادیا کہ فتنہ کا اندیشہ صرف ان بوڑھی عورتوں میں موجود نہیں ہے جو نکاح کے قابل نہیں ہیں اور ان کے سواجوان اور ادھیڑ(گوری کالی) سے فتنہ کے اندیشہ کی نفی نہیں کی گئی بلکہ ان میں یہ اندیشہ موجود ہے ،اور یہی وہ عارض ہے جس پر دوسرے اور تیسرے درجہ(کا پردہ واجب ہونے) کا مدار تھا ۔ اور جب شارع نے جوان اور ادھیڑ عورتوں کے بارے میں یہ حکم کردیا کہ ان میں فتنہ کا اندیشہ موجود ہے اب کسی کو اپنی رائے سے یہ کہنے کا اختیارنہیں کہ ان میں فتنہ کا اندیشہ موجود نہیں ،جس کی دلیل یہ آیت ہے وَمَاکَانَ لِمُؤمِنِ َّولَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَاقَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ‘اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِ ہِمْ ۔ (ترجمہ)کسی مؤمن مرد اور عورت کوگنجائش نہیں جب کہ اللہ اور اس کا رسول کسی بارے میں فیصلہ فرمادیں ۔ (خلاصہ کلام) یہ کہ پہلے درجہ کے واجب ہونے میں فتنہ کا احتمال شرط نہیں بلکہ وہ ہرحال میں واجب ہے ۔ اوردوسرے اورتیسرے درجہ کے واجب ہونے کے لئے فتنہ کا احتمال شرط ہے (اور احتمال فتنہ صرف بوڑھی عورت میں نہیں پایا جاتا باقی جوان اور ادھیڑعورت میں پایا جاتا ہے ۔ (ثبات الستور مع التسہیل ص۱۴)