احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
’’أناغیورواللّٰہ أغیرمنی ومن غیرہ حرم الفواحش ماظہر منہا وما بطن‘‘ میں بہت غیرت مندہوں اور اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ غیرت مند ہے ،اور اسی غیرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بے شرمی کی باتوں کو حرام قرارد ے دیا چاہے اس کی برائی کھلی ہو یا اندرونی ہو۔ اور یہ سب فواحش ہیں آنکھ سے دیکھنا ،ہاتھ سے پکڑنا ،پاؤں سے چلنا کیونکہ ان سب کو شارع نے زنا ٹھہرایا ہے چنانچہ ارشاد ہے : ’’العینان تزنیان الخ‘‘ آنکھیں زناکرتی ہیں اور ان کا زنا کرنا دیکھنا ہے کان زنا کرتے ہیں اور ان کا زناسننا ہے اور زبان بھی زنا کرتی ہے اور اس کازنا بولنا ہے اورہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے ۔ (دعوات عبدیت ص۸۵ج۵) اس وقت لوگوں میں یہ مرض شدت سے پھیل رہا ہے کوئی توخاص اصلی ہی گناہ میں مبتلا ہے ،اور کوئی اس کے مقدمات میں ۔ یعنی اجنبی لڑکے یااجنبی عورت پرنظر کرنا ،حدیث میں ہے : ’’اللسان یزنی وزناہ النطق والقلب یتمنی ویشتہی‘‘ اس میں ہاتھ لگانا بری نگاہ سے دیکھنا سب داخل ہوگئے یہاں تک کہ جی خوش کرنے کے لئے کسی حسین لڑکے یا لڑکی سے باتیں کرنا یہ بھی زنا ولواطت میں داخل ہے ،اور قلب کا زنا سوچنا ہے ،جس سے لذت حاصل ہو ،تو جیسے زنا میں تفصیل ہے ایسے ہی لواطت میں بھی اور یہ نہایت ہی افسوس اور رنج کی بات ہے باجود یکہ عورت کی طرف طبعاً میلان ہوتا ہے مگر لوگ پھر بھی لڑکوں کی طرف مائل ہیں اور وجہ اس کی زیادہ تریہی ہے کہ عورت سے ملنے میں بدنامی ہوجاتی ہے ،دوسرے عورت ملتی بھی مشکل سے ہے ،اور لڑکے سے ملنے میں زیادہ بدنامی کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا اور ملتے