اور کفین حجاب میں داخل نہیں ہیں اور ان کو ہر وقت کھلا رکھا جائے۔شمس الائمۃ سرخسیؒ نے اس مسئلہ پر مفصل بحث کے بعد لکھا ہے:
وھذا کلہ اذا لم یکن النظر عن شھوۃ فان کان یعلم انہ ان نظر اشتھی لم یحل لہ النظر الی شئی منھا۔ (مبسوط ص۱۵۲ج۱)
’’ یہ چہرہ‘ ہتھیلیوں کی طرف نظر کا جائز ہونا صرف اس صورت میں ہے جب کہ یہ نظر شہوت نہ ہو‘ اگر دیکھنے والا جانتا ہے کہ چہرہ دیکھنے سے برے خیالات پیدا ہوسکتے ہیں تو اس کے لئے عورت کی کسی چیز طرف دیکھنا ، نظر کرنا، حلال نہیں ہے‘‘۔
سورہ نور میں اللہ تعالی نے صراحۃً اس بات کی اجازت نہیں دی ہے کہ چہرے اور ہتھیلیوں کا کھلا رکھنا جائز ہے بلکہ’’ الا ما ظھر منھا‘‘سے بعض حضرات نے ہاتھ اور چہرہ مراد لیا ہے لیکن اکثر حضرات نے اس سے کپڑا اور چادر مراد لی ہے جیسا کہ ابن مسعود ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ ان کے نزدیک چہرہ اور ہتھیلیوں کا کھلا رکھنا جائز ہے۔علامہ ابن جوزیؒ نے ’’ الا ما ظھر منھا‘‘ میں سے سات اقوال نقل کر کے اس قول کو ترجیح دی ہے:
والقول الاول اشبہ وقد نص علیہ احمد فقال الزینۃ الظاھرۃ الثیاب وکل شئی منھا عورۃ حتی الظفر ویفید ھذا تحریم النظر الی شئی من الاجنبیات لغیر عذر فان کان لعذر مثل ان یرید ان یتزوجھا او یشھد علیھا فانہ ینظر فی الحالین الی وجھھا خاصۃ فاما النظر الیھا لغیر عذر فلا یجوز لا بشھوۃ ولا غیرھا وسواء فی ذالک الوجہ والکفان وغیرھما۔ (زاد المنیر:ص ۳۲ج۶)
’’پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔اما م ابن تیمیہ ؒ نے اس پر تصریح کی ہے فرمایا ہے کہ زینت ظاہرہ سے مراد کپڑے ہیں ، اور عورت کا ہر عضو ستر ہے،یہاں تک کہ ناخن بھی ستر میںسے ہیں ،اس سے یہ فائدہ ہوا کہ بغیر عذر کے عورت کی کسی چیز کی طرف بھی دیکھنا جائز نہیں ہے اگر عذر کی وجہ سے دیکھنا ہو مثلاً اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے یا اس پر گواہی دینا چاہتا ہو‘ تو ان دونوں صورتوں میں اس کے چہرے کی طرف دیکھ سکتاہے۔بغیر عذر کے عورت کے چہرے کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے چاہے شہوت کے ساتھ ہو یا شہوت کے بغیر ہو اور اس میں چہرہ اور ہتھیلیاں اور دیگر اعضاء کا حکم برابر ہے‘‘۔
علامہ شوکانی ؒ فرماتے ہیں: