اس کے برعکس مغرب نے جس طرح آزادیٔ نسواں کا نعرہ لگا کر عورت کو میدان عمل میں اتارا ہے۔ اس سے کئی قسم کی خرابیاں لازم آتی ہیں۔ذیل میں ہم چند خرابیوں کا اجمالی جائزہ لیں گے۔ تاکہ ہماری جن خواتین پر ملازمت کا جنون سوار ہے‘ وہ ان نقصانات کو دیکھ کر اپنی حقیقی ذمہ داری کی طرف پلٹ آئیں۔
عورت اور مرد کی تخلیق میں فطری طور پر کئی ایک نمایاں فرق ہیں۔ مرد کو گھر سے باہر کام کاج کے لیے اور عورت کو خانہ داری بجا لانے کے لیے اصلاً تخلیق کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ انسانی زندگی کے دو اہم شعبے ہیں ایک انسان کا گھر ‘دوسرا سماج۔
لیکن مغرب نے عورت کو باہر نکال کر اس کی ذمہ داریوں کو دوگنا کردیا اور خانہ داری کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ سماج کی ذمہ داری بھی اس پر ٹھونس دی ‘نتیجتاً عورت بے چاری دو کشتیوں میں سوار نہ ہوسکی اور منزل مقصود اس سے دور ہوتی گئی۔
خاندانی نظام تباہی کے دہانے پر:
جب عورت میدان عمل میں اترتی ہے تو اولاً وہ خاندانی نظام کے قیام کی ہی نفی کردیتی ہے۔ کیونکہ اس نے سماج کی ذمہ داری کو سنبھال رکھا ہوتا ہے۔ اب اسے ایک اور ذمہ داری کو برداشت کرنا دشوار نظر آتا ہے۔ کیونکہ سماج کی ذمہ داری کٹھن مرحلے کی ہوتی ہے اور وہ عورت کی عمومی تخلیق کے مخالف ہے۔ لہٰذا یہ پہلی ذمہ داری ہی اس کے کندھوں کو تھکا دیتی ہے۔
اب اگر وہ خاندانی نظام کی بنیاد رکھ بھی دے تو اسے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نسوانیت کا خاتمہ:
اگر عورت میدان عمل میں ایسا شعبہ اختیار کرلے جس کا تعلق جفاکشی سے ہے تو عورت کی نسوانیت رفتہ رفتہ لٹنے لگتی ہے۔ حتیٰ کہ عورت مردوں کی صف میں کھڑی ہو تو اس کا پہچانا جانا مشکل نظر آتا ہے۔
جب عورت کی نسوانیت ہی ختم ہوجاتی ہے تو مرد کے لیے باعث تسکین نہیں رہتی۔ مرد کا استمتاع اس سے ناممکن نہ سہی مشکل ضرورہوجاتا ہے۔نتیجتاًبات ازدواجی تعلق کے اختتام تک پہنچ جاتی ہے۔