مختلف ماہرین نفسیات نے ایسے لوگوں کی مدد اور رہنمائی کے لئے چند عملی تجاویز پیش کی ہیں ، ان پر عمل پیراہوکربے شمار افراد اپنی ناکام زندگی کی کایا پلٹ چکے ہیں۔ذرا سی کوشش اور محنت کرکے دوسرے لوگ بھی ان کی بدولت اپنی زندگی کی کھوئی ہوئی بہاریں دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔
مخلوق خدا سے محبت کیجئے:
محتاجی انسانیت کا طرہ امتیاز ہے‘ اللہ پاک نے انسان کے خمیر میں عمرانیت رکھی ہے۔ اس کی زندگی کی ضروریات دیگر تمام مخلوقات سے بڑھ کر ہیں۔ وہ اپنی زندگی کی تمام ضروریات تنہاء پوری نہیں کرسکتا ‘اسے ہر معاملے میں دوسرے کی محتاجی ہوتی ہے۔
یہ بات جہاں معاشرہ میں ہے وہیں یہ معاشرے کی اکائی خاندان میں بھی ہے۔ خاندان کا ہر فرد دوسرے کے ساتھ مربوط ہوکر نظام زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ گھر میں ہر فرد کو کسی نہ کسی معاملے میں دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گھر کے کچھ کام ہر ایک نے اپنے ذمے لے رکھے ہوتے ہیں۔ اگر اس فرد کو نکال دیا جائے تو دیگر افراد کی ذمہ داری بڑھتی ہے اور ان کے کندھوں پر وزن بڑھ جاتا ہے۔
عمرانیات کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ مربوط ہوکر زندگی گزارے۔ محبت اس ربط کو سب سے زیادہ مضبوط کرتی ہے۔ حقارت اور نفرت اسے سب سے پہلے توڑتی ہے۔
خاندان کے ہر فرد سے محبت کرنا سیکھئے‘ یہ تعلیم آپ کو معاشرے کے ہر فرد سے محبت سکھادے گی۔ آپ اگر اپنی ساس سے سچی محبت کرنے لگیں تو کتنا سکون ہوگا‘ جھگڑا اپنے اختتام کو نہیں پہنچ جائے گا؟ٖ
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی بلکہ اس کے لیے دو ہاتھ درکار ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ محبت بھرے جذبات میں پہل کردیں اور انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں تو آپ ان کا دل جیت سکتی ہیں۔
محبت ایک ایسی کائناتی حقیقت ہے جو سنگ دل سے سنگ دل انسان کو بھی گرفتار کرلیتی ہے۔ جب خاندان محبت میں جکڑا ہوا ہو تو زندگی آسان سے آسان ترین ہوجاتی ہے۔
اسلام نے بھی اسی کادرس دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
لایومن احد حتی یحب لا خیہ ما یحب لنفسہ