{نصائح}
اسلام کے زمانہ ابتدائی سے یہ بات چلی آرہی ہے کہ لوگ شادی سے قبل خاتون کو کسی عالم خاتون کے پاس لے جاتے اور اس سے نصائح کرواتے تاکہ عورت جو اپنی نئی زندگی میں قدم رکھ رہی ہے۔ سلامتی کے ساتھ اس راہ پر گامزن رہے۔
حضرت ام حمید فرماتی ہیں:
اہل مدینہ کی خواتین جب کسی لڑکی کو اس کے خاوند کے پاس بھیجنے لگتیں تو اسے لے کر حضرت عائشہؓ کے پاس آتیں۔ حضرت عائشہ ؓ اپناہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعاء دیتیں اور پھر اسے نصائح کرتیں اور خاوند کے حقوق سے متعارف کراتیں۔ (اخرج ابن ابی شیبہ)
حضرت جعدہ بن بصیرہ کی کسی بیٹی کی جب شادی کا وقت آتا تو آپ اسے تنہائی میں لے جاتے اور اسے کہتے کہ!
’’بیٹی! تم جس نئی زندگی میں قدم رکھ رہی ہو وہاں پر قدم پھونک کر رکھنا‘ برے اخلاق سے کنارہ کش رہنا۔ اچھے اخلاق اور اچھے افعال اپنائے رکھنا‘‘۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
ذیل میں ہم حکمائے امت کی چیدہ چیدہ نصیحتوں کو ذکر کرتے ہیں۔
حضرت عمرؓ کے پر حکمت اقوال:
حضرت سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے لوگوں کے لئے اٹھارہ کلمات وضع کئے جو سب کے سب حکمت سے پُر تھے ۔
آپ نے فرمایا :
{1}جو شخص تمہارے بارے میں اللہ تعالی کی نافرمانی کرے تم اس کا بدلہ اس کے بارے میں اللہ تعالی کی فرمانبرداری کرنے کے جیسا اور کچھ ادا نہیں کرسکتے ، یعنی برائے کا بدلہ اچھائی سے دو ۔
{2}اپنے بھائی کے معاملے کی اچھی توجیح کرو جب تک کہ اس کی صورت ممکن ہو یعنی حسن ظن رکھو ۔