ولا یخفی علیک ان ظاھر النظم القرآنی النھی عن ابراء الزینۃ الا ما ظھر منھا کالجلباب والخمار ونحوھما مما علی الکف والقدمین من الحیلۃ ونحوھما وان کان المراد بالزینۃ مواضعھا کان الاستثناء راجعا الی ما یشق علی المرأۃ سترہ، کالکفین والقدمین ونحو ذلک وھکذا اذا کان النھی عن اظھار الزینۃ یستلزم النھی عن مواضھا بفحوا الخطاب۔ (فتح القدیر:ص۲۳ج۴)
’’اور یہ بات تم پر مخفی نہ ہو کہ قرآ ن کریم کے ظاہری الفاظ یہ ہیں کہ زینت کو ظاہر نہ کیا جائے مگر جو ظاہر چیز ہے ان میں سے جیسا کہ چادر ہوئی ،دوپٹہ اور ان دونوں کے جیسے‘ ہتھیلی اورقدمین پر زیور وغیر ہ میں سے ہو، اگر زینت سے مراد مواضع زینت ہو تو اس صورت میں استثنیٰ ان مواضع کے لئے ہوگا جن اعضاء کا چھپانا عورت پر شاق گزرے جیسے ہتھیلیاں اور قدمین زینت کے لئے بھی (کہ ان کو چھپانا ضروری ہے)انداز کلام کی وجہ سے۔
الغرض ’’ الا ما ظھر‘‘ سے اتنی بات واضح ہے کہ عورتوں کے لئے محرموں کے سامنے چہرہ اور ہاتھ کھلا رکھنے کی اجازت ہے تاکہ دوسرے اعضاء کی طرح ان اعضاء کو بھی محرموں کے سامنے چھپانے کی تکلیف نہ ہو۔ البتہ اجنبیوں کے سامنے ہاتھ اور چہرہ کھولنے کی اجازت اس میں نہیں ہے۔
(۳) پردہ کی تیسری قسم یہ ہے کہ عورت دیوار کے پیچھے رہے ،برقع کے باوجود بھی باہر نہ نکلے ‘یہ قرآن و احادیث سے ثابت ہے اور یہ اعلیٰ درجہ کا پردہ ہے۔
قرآن وسنت کی رو سے اصل مطلوب یہی درجہ ہے کہ عورت چار دیواری کے اندر رہے ۔سورۃ احزاب کی مندرجہ بالا آیت اس پر واضح دلیل ہے:
{وَاِذَا سَأَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَاسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ} (سورۃ احزاب)
’’جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر سے مانگا کرو‘‘
اس سے واضح دلیل یہ آیت ہے:
{وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ } (سورہ احزاب)
’’ تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو‘‘
اور حضرت عمر ؓ کا مقصود بھی پردہ سے یہی تھا کہ امہات المؤمنین اجنبیوں کی نظروں سے چھپی رہیں‘ اس لئے تو حضرت عمرؓ نے