پھر حضرت لقمان نے خود ہی بتایاکہ سب سے کم یقین ہے اور سب سے زیادہ شک ہے ،اور میٹھی چیز ’’اللہ کی رحمت‘‘ہے جس کی وجہ سے بندے آپس میں محبت کرتے ہیں،اور ٹھنڈی چیز اللہ کا اپنے بندوں کو معاف کرنا ہے اور بندوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کرنا ہے،اور مانوس چیز تیرا محبوب ہے کہ جب اس کے پاس جانے کا ایک ہی دروازہ ہو اوروہ بھی بند ہو جائے اور قابل وحشت ونفرت چیز وہ جسم ہے جو مر جائے اور یہ سب سے زیادہ قابل وحشت ہے،سب سے قریب آخرت ہے ،جو دنیا سے قریب ہے اور بعید چیز دنیا ہے،جو آخرت سے دور ہے‘‘
امور خانہ داری:
اس کائنات میں ہر فرد کے ذمہ کچھ نہ کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ مرد کو گھر سے باہر کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور عورت کو گھر کی چاردیواری کے اندر کی۔ اپنی ذمہ داری نبھانے میں جو کوئی بھی کوتاہی کرتا ہے ‘زندگی پر اس کا بری طرح اثر پڑتا ہے اور زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔
انسان فطرتاً صفائی طلب ہے‘ صفائی ہو تو اس کی طبیعت ہشاش بشاش رہتی ہے۔ جینے کا لطف دوبالا ہوتا رہتا ہے۔ ذوق سلیم بھی نظافت ہی کو پسند کرتا ہے۔ گھر کی صفائی ستھرائی بیوی کا اخلاقی فرض ہے۔
مناظر فطرت دیکھئے! گھر کی چھوٹی سے دنیا فطرت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کیجیے۔ گھر کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیے‘ سجاوٹ اور زینت کا بھی خصوصی خیال رکھیے۔
خاوند کے آنے سے قبل قبل صفائی کے کام پورے کر لیجیے تاکہ جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوں،آپ کی مسکراہٹ اور گھر کی صفائی دیکھ کر ان کا دل باغ باغ ہو جائے ،اور زندگی کی رونقیں بحال ہو جائیں، اور ان میں مزید رونق آ جائے۔
فراغت کے اوقات گھر کی ڈیکوریشن پر صرف کیجیے۔ آپ اپنے آپ کو اس طریقے پر مشغول بھی رکھ سکتی ہیں۔ اگر جیب زیادہ خرچ کی اجازت نہ دے تو سستی اشیاء کے ذریعے ہی سجاوٹ کر لیجیے۔
اشیاء کے رکھنے کی ترتیب کے بارے ذوق پیدا کیجیے‘ جہاں جایئے وہاں ترتیب پرکھیے‘ ترتیب کی خوبیاں اور نقائص کو پہچانئے‘ خوبیاں اپنایئے اور نقائص کو ترک کیجئے۔
امور خانہ داری میں سلیقہ شعاری:
خانہ داری کوئی آسان کام نہیں، جو لوگ ناتجربہ کار ہوں ان کے لیے تو یہ