’’وہ میرے قریب آئے اور مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے ،پردے کے حکم سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا تھا، جب وہ مجھے پہچان گئے تو انا للہ… الخ پڑھنے لگے،میں ان کی آواز پر جاگ گئی اور اپنا چہرہ چادر سے چھپا لیا‘‘۔
اگر چہرے کا چھپانا ضروری نہ ہوتا تو حضرت عائشہؓ اپنے چہرے کو کیوں چھپاتیں ‘جب کہ وہ اسلام کا بہترین زمانہ تھا، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور فتنہ کا نام و نشان تک نہ تھا، لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت کی عزت پر فدا ہوتے تھے۔
جب حضرت عائشہؓ نے آیت حجاب سے یہ سمجھا کہ چہرہ چھپانا ضروری ہے تو آج بھی اس پر عمل کرنا لازم ہوگا، خصوصاً جب کہ آج کل فتنہ کا دور ہے تو اس میں اس حکم پر شدت سے عمل کرنا ضروری ہوگا۔ البتہ شریعت کی جانب سے اجازت ملنے کی صورت میں عورت کو اپنا چہرہ کھولنے کی اجازت ہوگی۔مثلاً کسی عورت سے نکاح کرنا تو مرد اس کے چہرے کو دیکھ سکتاہے۔
علامہ ابن جوزیؒ زاد المنیر میں لکھتے ہیں کہ:
وقال غیرہ من الائمۃ الوجہ والکفان لیس بعورۃ فیجوز للمرأۃ ان تظھر ھما وھذا مقید اذا لم یکن علی الوجہ والکفین شئی من الزینۃ اما ما یصنعہ فی زماننا من الاصباغ علی وجوھھن بقصد التجمل ویثھرہ بہ امام الرجال فی الطرقات فلا شک فی تحریمہ عند جمیع الائمۃ ثم الوجہ والکفان وان لم یکونا عورۃ عند بقیۃ الائمۃ فلیس معنی ذالک ان یجب کشفھما عندھم۔
(زاد المنیر:ص۳۱ج۶)
’’دیگر فرماتے ہیں کہ چہرہ اور ہتھیلیاں ستر میں داخل نہیں ہیں لہذا عورت کے لئے اس کا ظاہر کرنا جائز ہے لیکن جواز اس صورت میں ہے کہ عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں پر سامان زینت نہ ہو باقی ہمارے زمانے میں عورتیں چہرے پر زینت کے قصد سے جو رنگ وغیرہ لگاتی ہیں پھر گلیوں کوچوں میں مردوں کے سامنے ظاہر کرتی ہیں تو تمام ائمہ کے نزدیک اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے،اور چہروں اور ہتھیلیوں کا دیگر ائمہ کے ہاں عورت نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے نزدیک چہرے اور ہتھیلیوں کا کھلا رکھنا واجب ہے‘‘۔
اس لئے جن حضرات نے شرعی ضرورت کی وجہ سے چہرہ اور کفین کو ظاہر کرنے کی اجازت دی ہے ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چہرہ