میری حیاء کا‘ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے بیٹے کے لئے دو شہیدوں کا اجر ہے‘‘
اگر چہرہ اور کفین کو حجاب سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ عورت کے چہرے کی طرف دیکھنا جائز ہو‘ حالا نکہ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت اس سے بالکل مخالف ہے:
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال کان الفضل ردیف النبی صلی اللہ علیہ وسلم فجاء ت امرأۃ من خثعم فجعل الفضل ینظر الیھا وتنظر الیہ فجعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصرف وجہ الفضل الی شق الاخر۔ (بخاری:ص ۲۴۴ج۱)
’’ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ فضلؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں قبیلہ خثعم کی ایک خاتون آئیں،فضل ؓ ان کو دیکھے لگے، وہ فضل ؓ کو دیکھنے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضلؓ کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا‘‘۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس طرح عورت کے چہرے کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے اسی طرح عورت کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے چہرے کو دکھاتی پھرے۔ واقعہ افک میں جو سبب حضرت عائشہ ؓ کے جنگل میں رہ جانے کا پیش آیا وہ یہی تھا کہ ازواج مطہرات کا پردہ صرف برقع اور چادر ہی نہ تھا بلکہ وہ سفر میں بھی اپنے آپ کو چھپانے کے لئے اپنے ہودج میں بیٹھی رہتی تھیں۔ یہ ہودج اونٹ کے اوپر سوار کردیا جاتااور اسی طرح اتارا جاتاتھا۔ اس واقعہ میں جب قافلہ چلنے لگا تو حسب عادت خادموں نے ہودج کو یہ سمجھ کر اونٹ پر سوار کردیا کہ ام المؤمنین اس کے اندر موجود ہیں اور واقعہ یہ تھا کہ وہ اس میں نہیں تھیں بلکہ طبعی ضرورت کے لئے باہر گئی ہوئی تھیں ،اس مغالطہ میں قافلہ روانہ ہوگیا اور ام المؤمنین پیچھے تنہا رہ گئیں ، لیکن جب بعد میں حضرت صفوان ؓ آئے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ کو پہچان لیا ،کیونکہ نزول حجاب سے پہلے حضرت صفوان ؓ نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کو دیکھا تھا تو استرجاع کے کلمات منہ سے ادا کرلئے تاکہ ام المؤمنین مطلع ہوں، بخاری میں یہ الفاظ حضرت عائشہؓ سے منقول ہیں:
فاتانی فعرفنی حین رآنی وکان یرانی قبل الحجاب فاستیقظت باسترجاعہ حین عرفنی فخمرت وجھی لجلبابی…الخ۔ (بخاری ص۶۶ج۲)