نہیں ہے تو فرمایا کہ چھپادے تمہاری بہن تمہیں اپنی چادر میں ‘‘
حج جو ایک اہم عبادت ہے، اس عبادت میں عورتوںپر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ چہرہ نہ چھپا ئیں لیکن حج جیسی عبادت میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب مردوںکی سواریاںہمارے قریب سے گزرتی تھیںتو ہم اپنے چہروںکو چھپالیتی تھیں۔چنانچہ روایت ہے:
عن عائشۃرضی اللہ عنھا قالت کان الرکبان یمرون بنا ونحن محرمات مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاذا حاذوا بناسلت احدنا جلبابھا من راسھا علی وجھھا فاذا جاوزنا کشفناہ۔
(ابودائود: ص۴۵۴،ج۱)
’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مردوںکی سواریاںہم پرگزرتی تھیںاس حال میںکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میںتھے، جب سوار ہمارے قریب ہوتے تو ہم اپنی چادر کو سر کی طرف سے اپنے چہرے پر لٹکالیتے اور جب سوار ہماری طرف سے گزر جاتے تو ہم اپنی چادر کو چہرے سے ہٹادیتے ‘‘
اس روایت سے صاف طور یہ بات واضح ہوئی کہ عورتوں کے لئے اپنے چہرے کو چھپانا ضروری ہے ،اور حضرت عائشہ ؓ نے اس کا اہتمام حج کے موقع پرـ بھی کیا۔ـِ
ابو داؤد شریف میں حضرت قیس بن شماس سے روایت ہے کہ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کے لئے اپنا چہرہ چھپانا ضروری ہے ، چنانچہ روایت کے الفاظ یہ ہیں:
عن قیس بن شماس عن ابیہ عن جدہ قال جاء امرأۃ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقال لھا ام خلاد وھی متنقبۃ تسئل عن ابنھا وھو مقتول فقال لھا بعض اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم جئت تسالین عن ابنک وانت متنقبۃ فقالت ان ارزاء ابنی فلن ارزاء حیائی فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا بنک اجر شھیدین۔
(ابو داؤد شریف ص ۳۳۷ ج ۱)
’’ قیس بن شماس اپنے باپ کے واسطے سے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی وہ نقاب اوڑھے ہوئے تھی، وہ اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی جو شہید ہوئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے اس عورت سے کہا کہ تم اس لئے آئی ہو کہ اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھو ، حالانکہ تم نے نقاب (چہرے پر ) ڈالا ہے۔ پس اس نے کہا میرے بیٹے کا سہارا اٹھ گیا ہے نہ کہ