عن ابن عباس رضی اللہ عنہ امر اللہ نساء المؤمنین اذا خرجن من بیوتھن فی حاجۃ ان یغطین وجوھھن من فوق رؤسھن بالجلابیب ویبدین عینا واحدۃ۔ (ابن کثیر ص ۵۴۱ ج ۳)
’’اللہ تعالی نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے چادر لٹکا کر چہرے کو چھپا لیں اور صرف ایک آنکھ (راستہ دیکھنے کے لئے)کھلی رکھیں ‘‘۔
علامہ ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ :
سألت عبیدۃ السامانی عن قول اللہ عز وجل یدنین علیھن من جلابیبھن فغطی وجھہ وراسہ وابرز عینہ الیسری۔ (ابن کثیر :۵۴۱)
’’میں نے عبیدہ سمانی سے اس آیت (یدنین علیھن…الخ )کا مطلب اور جلباب کی کیفیت دریافت کی تو انہوں نے سر کے اوپر سے چادر چہرے پر لٹکا کر چہرہ چھپا لیا اور صرف بائیں آنکھ کھلی رکھ کر ادنیٰ جلباب کی تفسیر عملاً بیان فرمائی‘‘
سر کے اوپر سے چہرے پر چادر لٹکانا جو حضرت ابن عباسؓ اور عبیدہ سامانی کے بیان میںآیا ہے یہ لفظ’’علیھن ‘‘ کی تفسیر ہے کہ اپنے اوپر چادر قریب کرنے کا مطلب چادر کو سر کے اوپر سے چہرے پر لٹکانا ہے ۔
اس آیت میں بصراحت چہرے کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے کہ عورت کو جب کسی ضرورت کی بناء پر گھر سے نکلنا پڑے تو لمبی چادر سے تمام بدن کو چھپا کر نکلے۔اور اس چادر کو سر کے اوپر سے لٹکا کر چہرہ بھی چھپا کر چلے، مروجہ برقع بھی اس کے قائم مقام ہے ۔
قرطبیؒ نے جلباب کے یہ معنیٰ یہ بیان کئے ہیں کہ ’’ جلباب اس کپڑے کو کہتے ہیں جو تمام بدن کو چھپا لے ‘‘
اس معنیٰ کی تائید کے لئے امام قرطبی ؒ نے امام عطیہ کی روایت سے استدلال کیا ہے۔
عن ام عطیۃ قلت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احدا لا یکون لھا جلباب قال لتلبسھا اختھا من جلبابھا۔ (قرطبی:ص۲۴۳ ج۱۴)
’’حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم میں سے ایسی عورتیں بھی ہیں کہ ان کے لئے چادر