بِّزِیْنَۃٍ} (سورۃ النور:۶۰)
’’بڑی بوڑھی عورتیں جن کو نکاح کی امید نہ رہی ہو، ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے کپڑے (جن سے وہ چہرہ چھپاتی ہیں) اتار کر رکھیں بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ ہو‘‘۔
چنانچہ بوڑھی عورتوں پر پہلا درجہ واجب ہے کہ چہرے اور ہتھیلیوں کے ماسوا باقی بدن کو ظاہر کرنا ہرگز جائز نہیں ہے ، پردہ کا دوسرا درجہ ان کے لئے مستحب ہے یعنی برقع کے ساتھ باہر جائے اور اپنے قدو قامت کو بھی ظاہر نہ کرے۔
پردے کا دوسرا درجہ کہ چہرے اور ہتھیلیوں کو بھی برقع سے چھپایا جائے اور ضرورت کے وقت مرد کی اجازت سے باہر نکلے یہ بھی قرآن کریم اور احادیث کی مندرجہ ذیل تصریحات سے ثابت ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
(الف) {وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ } (سورۃ النور:۳۱)
’’اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں‘‘
(ب) {وَلاَ یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ} (سورۃ النور:۳۱)
’’اور اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے‘‘
(ج) {یَآَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ}
(سورۃ الاحزاب:۵)
’’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ نیچی کر لیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں‘‘
ضرورت کے وقت عورت کو گھر سے باہر جانا پڑے تو اس وقت کسی برقع یا لمبی چادر کو سر سے پیر تک اوڑھ لینے کا حکم ہے جس میں بدن کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہو۔ یہ سورۃ احزاب کی مندرجہ بالا آیت سے ثابت ہے ۔اس آیت میں آزاد عورتوں کو ایک خاص طرح کی ہدایت فرمائی کہ چادر کو سر کے اوپر سے لٹکا کر چہرے کو چھپا لے کیونکہ عام کنیزوں سے ان کا امتیاز حاصل ہوجائے ، اور شریر لوگوں کے فتنہ سے محفوظ ہوجائیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی ہیئت یہ بیان فرمائی ہے: