دوسروں کی بیٹیوں کو تو جان سے مار دو تو بھی کوئی گناہ نہیں…!
آمنہ بی بی:
جان سے کون مار رہا ہے۔
سلمان سیٹھ:
یہ تو جان سے مار ڈالنے سے بھی زیادہ عذاب ہے کہ کسی پر اس کی زندگی اجیرن کردی جائے، اٹھتے بیٹھتے اس کو برا بھلا کہا جائے ،بات بات پر طعنے مارے جائیں ،ہر گھڑی اس پر لعنت برسائی جائے، ایسا کرنا تو تڑپا تڑپا کر مارڈالنے سے بھی زیادہ برا ہے۔ جلاد ساسوں کی ایسی کڑی کسیلی باتوں سے انسانیت سوز سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں واقعات سے لبریز ہیں۔
آمنہ بی بی:
لو، اب چھوڑو بھی ایسی باتیں ، تم تو وعظ کرنے بیٹھ گئے ،چلو اب کھانا کھالو ،دیر ہوگئی۔ارے زبیدہ تو اپنے ابا کے لئے کھانا لے آ۔
سلمان سیٹھ:
نہیں میںاس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے یہ وعدہ نہ کرے کہ آج سے دلہن کو کچھ نہ کہے گی۔
آمنہ بی بی:
اچھا اچھا بھئی!کھانا تو کھالو، میں آج سے افضال احمد کی دلہن کو کچھ نہ کہوں گی ،اب تو خوش ہوگئے نا؟
سلمان سیٹھ:
خوش تو میں اس وقت ہوں گا جب تو اس وعدہ کی پاسداری کرے گی ورنہ میں تم دونوں کو الگ الگ رکھوں گا یہی میرا فیصلہ ہے…!
(ھدیۃ العروس)