سمجھ میں نہیں آتا کہ تم اتنی کیوں بدل گئی ہو۔تم میں اتنا فرق کیوں آگیا ہے۔
آمنہ بی بی:
کیوں؟ مجھ میں کیا فرق آگیا ہے۔
سلمان سیٹھ:
تو وہ زمانہ بھول گئی جب میری ماں زندہ تھی ، تب مجھے تو بار بار کہا کرتی تھی کہ چلو اپنا الگ گھر لے لیں،مجھے یہاں نہیں رہنا۔مجھے میکے بھیج دو اور یہ سب تو مجھے کیوں کہتی تھی۔ اسی لئے نا کہ تو امی جان کے برتاؤ سے اُکتا گئی تھی۔ کیا تجھ میں کام کرنے کی صلاحیت نہ تھی،یہ سب ہونے کے باوجود اماں جان تجھے ٹوکتی تھی ،تو اس وقت تیرا دل دکھتا نہ تھا…؟
آمنہ بی بی:
نہیں جی، مجھے تو ذرا بھی ناگوار نہ گزرتا تھا۔
سلمان سیٹھ:
اچھا؟ ناگوار نہیں گزرتا تھا تو پھر ماں کے برے برتاؤ کی شکایت مجھ سے کیوں کرتی تھی۔ نہیں نہیں ! تجھے ضرور ناگوار گزرتا تھا لیکن اصل حقیقت تو مجھ سے چھپا رہی ہے ۔ صرف اس لئے کہ آج تو دلہن کے بجائے ساس بنی ہوئی ہے‘ اب ذرا سوچ تو سہی کہ تیری اس ہر گھڑی کی ٹک ٹک اور بات بات میں طعن و تشنیع سے دلہن کا دل دکھتا نہ ہوگا۔کیا وہ افضال احمد سے تیرے اس سخت برتاؤ کی شکایت نہ کرتی ہوگی؟اور کیا اس کے دل میں الگ ہوجانے کا خیال نہ آتا ہوگا؟ تجھے ان سب باتوں کا تجربہ ہے ‘پھر تو اس طرح بچوں جیسی حرکتیں اورچھچورا پن کیوں کرتی ہے؟ مجھے اس بات سے تعجب ہوتاہے کہ عورت جب ساس بنتی ہے تو پھر اس کی عقل چرنے کیوں چلی جاتی ہے اور اس کو اس بات کا خیال کیوں نہیں رہتا کہ وہ بھی ایک دن دلہن تھی… ! فرض کرو کہ اس دلہن کی جگہ تیری زبیدہ ہوتی تو تیرے دل کو کیا ہوتا؟
آمنہ بی بی:
نا،رے، بھئی، میں اپنی لڑکی کی شادی ایسی جگہ ہونے نہ دوں گی جہاں اس کی ساس جلاد جیسی ہو۔
سلمان سیٹھ:
اچھا! اپنی بیٹی کے لئے تو ساس کو بھی برداشت نہیں کرسکتی اور