سلمان سیٹھ:
افضال احمد کی چائے کی تجھے بہت فکر ہے ۔تجھے کیا خبر کہ وہ اپنے یار دوستوں کے ساتھ ہوٹلوں میں کتنی چائے انڈیلتا ہوگا۔
آمنہ بی بی:
تم کو تو اولاد سے ذرا بھی پیار محبت نہیں۔
سلمان سیٹھ:
دیکھو بیگم!دوبارہ اس طرح مت بولنا،کون کہتا ہے کہ مجھے اولاد سے محبت نہیں ؟افضال کے ساتھ محبت نہ ہوتی تو میں اس کی دلہن کی طرف داری کیوں کرتا۔
آمنہ بی بی:
رہنے دو تم تو وکیلوں کی طرح بات بات میں دلیل دیتے ہو۔
سلمان سیٹھ:
ارے وکیلوں کی طرح کیا؟میں وکیل تو پہلے تھا ہی،پھر الحمد للہ جھوٹ بولنے سے توبہ کرلی، پھر اللہ تعالی نے اپنے فضل سے وکالت سے نجات دے کر جائز تجارت عطا فرمادی ،اس لئے وکیلوں جیسی باتیں بھی کروں گا اور گھر ہو یا کچہری وکیل آخر وکیل ہے۔
آمنہ بی بی:
یہ سب تمہارا ہی کیا ہوا ہے،میں تو خدیجہ آپا کے پاس سے منگنی لیکر پچھتا رہی ہوں۔
سلمان سیٹھ:
کیوں! اس میں خدیجہ آپا نے کون سا گناہ کردیا۔پڑھی لکھی ، دین دار، اور باپردہ دلہن تیرے گھر لاکر بٹھا دی ہے، پھر کیا ہے؟
آمنہ بی بی:
اونھ!پڑھی لکھی … ارے اس سے تو اَن پڑھ اچھی۔
سلمان سیٹھ:
افضال احمد کی ماں !میں تجھے یہ پوچھتا ہوں کہ تو پورا دن ہاتھ منہ دھو کر اس کے پیچھے کیوں لگی رہتی ہے۔
آمنہ بی بی:
تو یوں کہہ کر میرا دماغ خراب ہوگیا ہے،اس لئے اس کے پیچھے پڑ گئی ہوں۔
سلمان سیٹھ: