ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
تحقیقات کو گیا ۔ معلوم ہوا کہ ایک نلکی میں پیر جی نے فاتحہ بند کر کے دیدی تھی ۔ اور روئی کی ڈاٹ لگادی تھی کہ جب فاتحہ دینا ہوتو اس نلکی کو کھول کر کھانے پر جھاڑ دیا کرو ۔ سال بھرکے بعد وہ بدل جاتی تھی ۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص فاتحہ وغیرہ کو احتیاط سے کرے ۔ جواب میں فرمایا کہ بدون قیود کے کریں ۔ اور ایک بات اور قابل غور ہے کہ کھانا سامنے لاکر جو فاتحہ دیتے ہیں یہ عقل کے خلاف ہے کیونکہ کسی چیز کا ثواب ملنے کی حقیقت یہ ہے کہ پہلے عمل کریں کہ اس کا ثواب اپنے کو ملے اس کے بعد دعا کریں کہ یااللہ جو ثواب مجھ کو ملا ہے وہ فلاں کو پہنچا دیجئے ۔ اس بناء پر صورت یہ ہونی چاہئے کہ پہلے کھانا مستحقین کو دیدیں کہ ثواب اس کا اپنے کو ہوجائے پھر دعا کریں کہ اللہ میاں دوسرے کی طرف اس کو منتقل فرمادیں ۔ اس سے ظاہر ہوگیا ہوگا کہ کھانے پر فاتحہ دینے کے کچھ معنی ہی نہیں بالکل لغو حرکت ہے ۔ ایک شخص نے مجھ سے اسی فاتحہ کو پوچھا تھا ۔ میں نے اس کی یہی حقیقت بیان کی اور کہا کہ جب تک آپ نے مساکین کو دیا نہیں تو آپ ثواب کیسے پہنچاسکتے ہیں جب تک آپ نے عمل ہی نہیں کیا اور آپ کو اس کا ثواب حاصل نہیں ہوا تو دوسرے کو کیا پہنچے گا ۔ خریدنا پکانا وغیرہ تو عمل نہیں ۔ البتہ مساکین کو دینا عمل ہے ور وہ پایا نہیں گیا اسی لئے آپ کو خود ثواب نہیں ملا تو دوسرے کو کیا پہنچے گا ۔ یہ سن کر کہنے لگے کہ واقعی بڑی مہمل بات ہے اور میں نے کہا کہ ایک بات اور بھی سمجھے کہ فاتحہ میں کل کھانا سامنے نہیں رکھتے تھوڑا سا رکھتے ہیں اور اس پر فاتحہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنے ہی کھانے کا ثواب مقصود ہے یاکل کا صرف اسی مقدار کا مقصود ہونا تو ان کے نزدیک بھی نہیں اور جب سارے کا ثواب مقصود ہے تو سوال یہ ہے کہ جب وہ سامنے نہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ سامنے رکھنا شرط نہیں پھر یہ تھوڑا کیوں سامنے رکھا گیا کہ اللہ میاں کو نمونہ دکھاتے ہیں ۔ یہ تو اور بھی لغو حرکت ہے وہ شخص بولے کہ ہم تو آج سے یہ کام نہ کریں گے یہ تو عقل کے خلاف ہے ۔ میں نے کہا اس میں شک ہی کیا ہے ۔ واقعہ : علی گڑھ کالج کا ذکر آگیا اس کے متعلق فرمایا ۔ ارشاد : ایک شخص حامی کہنے لگا کہ جتنی شکایتیں علی گڑھ کے متعلق سنی تھیں اس میں سے زیادہ حصہ غلط نکلا وہ لوگ ایسے نہیں جیسی شکایتیں سنی جاتی ہیں ۔ میں نے کہا کہ ہمارے تمہاری ایک مثال ہے وہ یہ کہ کسی شخص کو خبر پہنچی کہ تمہارا بیٹا سخت بیمار ہے ۔ اس کے پاؤں میں تو کانٹا لگا ہوا ہے کمر میں سوئی چبھی ہوئی ہے ۔ مکھی نے کاٹ رکھا ہے تمام سرسے پاؤں تک بیمار ہے غرض باپ یہ خبر پاکر پہنچا دیکھا کہ جن امراض کی خبر ملی تھی ان میں سے بھی نہیں مگر سرسام ہے اب وہ باپ