ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
بھی بنا کر اس میں رکھا تھا گویا نمونہ بتلایا تھا کہ لڑکا ایسا ہو یہ تو ایک باہل عورت کا فعل تھا مگر تعجب ہے کہ ایک مقام پر ایک تحصیلدار صاحب نے عرضی لٹکائی تھے اے امام حسین لڑکا دیجئے ۔ ایک ظریف اس کے نیچے لکھ آئے کہ تمہارے یہ بی بی بانجھ ہے اس سے ہر گز اولاد نہ ہوگی ۔ جب تک دوسرا نکاح نہ کرو گے ۔ اور شیخ سعدی کا یہ شعر لکھ دیا زمین شور سنبل برنیارد ٭ درو تخم عمل ضائع مگر داں اور نیچے لکھ دیا ۔ ،، راقم امام حسین ۔ ،، اسی طرح گیارہویں شریف میں عقیدہ ہے واقعات بتلاتے ہیں کہ نہایت فاسد ہیں ۔ ایک جگہ دو طالب علموں میں بحث ہورہی تھی ایک تو یہ کہتے تھے کہ بڑے پیر کی نیاز دلاتے ہیں یہ اضافہ محض لفظوں میں ہے باقی نیت ان کی اس میں یہ ہوتی ہے کہ نیاز تو اللہ کی ہے اور اس کا ثواب فلاں بزرگ کو پہنچ جائے ۔ دوسرے کہتے تھے کہ نہیں عقیدہ میں بھی بزرگوں ہی کے نام کی نیاز ہوتی ہے یہی قصہ ہورہا تھا ۔ اتفاق سے ایک بڑھیا آگئی اور کہا بڑے پیر کی نیاز دیدو ۔ جو شخص کہہ رہے تھے کہ عقیدہ میں بھی بزرگوں کی نیاز دیجاتی ہے ۔ انہوں نے اس بڑھیا سے کہا کہ یوں کروں کہ نیازتو دوں اللہ کی اور ثواب پہنچاؤں بڑے پیر صاحب کو تو وہ بڑھیا کہتی ہے نہیں ۔ اللہ میاں کی نیاز تو میں الگ دلواؤں گی ۔ یہ تو بڑے پیر کی نیاز ہے جب انہوں نے اپنے مقابل سے کہا کہ دیکھئے آپ کی بڑھیا آپ کی تاویل کا کس تصریح سے ابطال کررہی ہے جس میں خلاف کی گنجائش ہی نہیں عوام کے عقیدہ کی کچھ مت پوچھو اور زیادہ عوام الناس ہی ہیں اب ذرا جو کلام کرے وہ وہابی ۔ مولوی غوث علی شاہ صاحب کی حکایت سنی ہے کہ کسی نے گیار ہویں میں ان کی دعوت کی اور فاتحہ میں بزرگوں کی لمبی فہرست پڑھنی شروع کردی مولوی صاحب تھے ظریف کہتے ہیں کہ میاں ہمارے نام تو لوکہ بغیر ہمارے ان کو کچھ بھی نہ پہنچے گا ( یعنی جب تک ہم نہ کھالیں تب ان کو ثواب کہاں سے پہنچے ) وہ تو ہمارے محتاج ہیں ۔ ایک طالب علم سے نقل کرتے تھے کہ ایک عورت ان کو فاتحہ کے لئے بلا کر لے گئی ۔ کھانا تو تھا ہی اس کے ساتھ افیون ۔ چانڑ ۔ حقہ وغیرہ بھی تھا ۔ جب فاتحہ پڑھنی شروع کی تو اس عورت نے کہا کہ میاں نیچے کو مت دیکھنا مگر طالب علم تھا شوخ نیچے جو دیکھا تو وہ عورت ننگی ۔ وہ خفا ہوئی کہ ہم نے تو منع کر دیا تھا ۔ آخر وجہ پوچھی تو کہا کہ جیسے مردہ کو اور چیزوں سے رغبت تھی اس سے بھی رغبت تھی کیا حد ہے اس زیادتی کی ۔ ایک سب انسپکٹر بیان کرتے تھے کہ میرے یہاں تھا نہ میں رپٹ ہوئی کہ میری فاتحہ کوئی شخص چرالے گیا ۔ چنانچہ میں